مینسک (صداۓ روس)
روس کے بریانسک ریجن میں یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں بیلاروس سے تعلق رکھنے والی بچوں کی فٹبال ٹیم کو لے جانے والی بس نشانہ بن گئی، جس کے باعث ایک خاتون ہلاک جبکہ متعدد بچے زخمی ہو گئے۔ روسی حکام کے مطابق بس بیلاروس کے شہر ریچیسا سے تعلق رکھنے والی نوجوان فٹبال ٹیم کو روس کے ساحلی تفریحی شہر گیلینڈژک لے جا رہی تھی۔
بریانسک ریجن کے قائم مقام گورنر ایگور کووالچک نے بتایا کہ حملے میں ایک بالغ خاتون جاں بحق ہوئیں جو بچوں کے ساتھ سفر کر رہی تھیں، جبکہ زخمیوں میں کئی کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔ روسی وزارتِ صحت کے مطابق ایک بچے کی حالت تشویشناک ہے اور اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ دیگر زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
روسی تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق بس میں مجموعی طور پر 44 افراد سوار تھے جن میں 28 کم عمر کھلاڑی شامل تھے۔ حکام نے واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ روسی اور بیلاروسی ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری تصاویر میں بس کی کھڑکیوں کو ٹوٹا ہوا اور گاڑی کے مختلف حصوں کو شیلوں کے ٹکڑوں سے متاثر دکھایا گیا ہے۔
بیلاروسی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والی خاتون ٹیم کے کوچ کی اہلیہ تھیں۔ واقعے کے بعد روس اور بیلاروس دونوں ممالک میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیا جا رہا ہے۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں یوکرین کی جانب سے روسی سرحدی علاقوں پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ ایسے حملوں میں اکثر شہری تنصیبات اور عام شہری نشانہ بنتے ہیں۔ اسی روز بریانسک ریجن میں ایک ایمبولینس اور ایک شہری گاڑی پر بھی ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جن میں کئی افراد زخمی ہوئے۔ بیلاروس روس کا قریبی اتحادی ہے، تاہم اس نے براہِ راست یوکرین تنازع میں شرکت نہیں کی۔ بیلاروسی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ ان کا ملک صرف اسی صورت میں فوجی کارروائی کرے گا جب اس پر براہِ راست حملہ کیا جائے گا۔