جرمنی اور فرانس یورپی یونین کی سب سے بڑی ٹینک ساز کمپنی کے مشترکہ مالک

German Tank German Tank

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

جرمنی اور فرانس نے یورپی یونین کی سب سے بڑی ٹینک ساز دفاعی کمپنی KNDS میں مشترکہ سرکاری ملکیت کے لیے ایک تاریخی معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں ممالک نے پیر کے روز بتایا کہ کمپنی کی ملکیت اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق فریم ورک کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس کے تحت جرمنی اور فرانس کمپنی میں برابر حصص کے حامل ہوں گے۔

اعلامیے کے مطابق جرمن حکومت کمپنی کے 40 فیصد حصص خریدے گی، جبکہ فرانسیسی حکومت اپنے موجودہ 50 فیصد حصص کم کرکے 40 فیصد تک لے آئے گی۔ اس طرح کمپنی کے تقریباً 20 فیصد حصص آزاد مارکیٹ میں رہ جائیں گے۔ جرمنی یہ حصص موجودہ جرمن شیئر ہولڈر ویگمین خاندان سے حاصل کرے گا، تاہم معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے جرمن پارلیمان کی بجٹ کمیٹی کی منظوری ابھی درکار ہے۔ اگرچہ دونوں حکومتوں نے معاہدے کی مالی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس سودے کی بنیاد پر کمپنی کی مجموعی مالیت تقریباً 15 سے 18 ارب یورو کے درمیان قرار دی جا رہی ہے۔

کے این ڈی ایس یورپ کی اہم دفاعی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کے تیار کردہ Leopard 2 اور Leclerc ٹینک دنیا بھر میں معروف ہیں۔ کمپنی توپ خانے کے نظام، بکتر بند گاڑیوں اور دیگر جدید عسکری سازوسامان کی بھی تیاری کرتی ہے۔ 2015 میں قائم ہونے والی اس کمپنی نے یوکرین کو بھی مختلف دفاعی نظام فراہم کیے ہیں اور یوکرین میں اپنی ذیلی شاخ قائم کر رکھی ہے تاکہ مرمت اور گولہ بارود کی پیداوار میں مدد فراہم کی جا سکے۔

جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری سے یورپی سلامتی اور دفاعی صلاحیت کے لیے اہم سمجھی جانے والی کمپنی پر طویل المدتی اثر و رسوخ برقرار رکھا جا سکے گا۔ دوسری جانب فرانسیسی صدر Emmanuel Macron نے اس معاہدے کو یورپی دفاعی خودمختاری کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرانس اور جرمنی اب اپنی دفاعی ضروریات، پیداوار اور جدت طرازی کے لیے زیادہ خودمختار حیثیت حاصل کر رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے مبینہ روسی خطرے کے پیش نظر اپنے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور نیٹو کے دفاعی اخراجات کے اہداف کے مطابق اپنی عسکری صلاحیتوں کو وسعت دینے کی پالیسی اپنائی ہے۔ تاہم روس بارہا ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ نیٹو ممالک پر حملے کے حوالے سے مغربی خدشات بے بنیاد ہیں۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل فرانس اور جرمنی کے مشترکہ اگلی نسل کے جنگی طیارے کے منصوبے ایف سی اے ایس کو اختلافات اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس تناظر میں دفاعی شعبے میں یہ نیا اشتراک یورپی عسکری تعاون کے لیے ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔