ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
چین نے بنگلہ دیش اور میانمار کو ملانے والا ایک اکنامک کوریڈور تجویز کیا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ اور بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے جمعہ کو بیجنگ میں وزیراعظم کے پہلے سرکاری دورے کے دوران اس علاقائی رابطے کے منصوبے پر بات کی۔ چینی وزارت خارجہ کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چین بنگلہ دیش کے ساتھ اعلیٰ معیار کی بیلٹ اینڈ روڈ تعاون پر کام کرنے کو تیار ہے۔ بیجنگ چین-میانمار-بنگلہ دیش اکنامک کوریڈور کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے تاکہ علاقائی رابطے میں اضافہ ہو سکے۔ رپورٹس کے مطابق یہ کوریڈور چین کے یونان صوبے کو بنگلہ دیش اور میانمار سے جوڑے گا۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم آفس کے ترجمان مہدی امین نے کہا کہ شی جن پنگ اور طارق رحمان نے بیجنگ کے عظیم ہال آف پیپل میں رابطے کے منصوبے پر تفصیلی بات کی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ بنگلہ دیش، میانمار اور چین کو ملانے والا اکنامک کوریڈور کیسے تیار کیا جا سکتا ہے۔
صدر شی جن پنگ کے 2013 میں شروع کردہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت ریلوے، بندرگاہوں، ہائی ویز اور انرجی پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کے ذریعے ایشیا، افریقہ اور یورپ میں رابطے کو فروغ دینا ہے۔ بنگلہ دیش نے 2016 میں اس انیشی ایٹو میں شمولیت اختیار کی تھی۔ دونوں ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں اعلیٰ معیار کے تعاون کو فروغ دینے اور جدیدیت کے اہداف حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے چین-بنگلہ دیش کمیونٹی بنانے کا اعلان بھی کیا جس سے دوطرفہ تعلقات کو مزید بلند سطح پر لے جایا جائے گا۔ بیجنگ میں انویسٹ بنگلہ دیش سیمینار کے دوران چین-بنگلہ دیش مونگلا پورٹ اکنامک زون پر معاہدہ بھی دستخط کیا گیا۔