ماسکو(اشتیاق ہمدانی)
روس کے دارالحکومت ماسکو، جمہوریہ داغستان کے تاریخی شہر دربینت میں محرم الحرام کے موقع پر حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی یاد میں شبِ عاشور، یومِ عاشور اورشبِ غریباں کی مجالس، جلوس، نوحہ خوانی، مرثیہ خوانی، سینہ کوبی اور ماتمی اجتماعات نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد کیے گئے۔ روس بھر میں ہزاروں عزاداروں نے ان تقریبات میں شرکت کی، جبکہ مقامی شیعہ تنظیموں کے زیرِ اہتمام ہونے والے ان اجتماعات کے لیے روسی حکام نے بھرپور سکیورٹی اور انتظامی تعاون فراہم کیا۔
ماسکو اسلامک سینٹر میں مجلس کا آغاز زیارتِ عاشورا، تلاوتِ قرآنِ مجید اور نوحہ خوانی سے ہوا۔ حجۃ الاسلام الہان گاسانوف نے “اسلام میں ذمہ داری” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک مسلمان اللہ تعالیٰ، اپنے نفس، اپنے خاندان، معاشرے اور ماحول کے سامنے جواب دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں ایمان صرف عقیدے کا نام نہیں بلکہ عملی ذمہ داری بھی ہے، اور معاشرے کی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب ہر فرد اپنے دینی اور سماجی فرائض کو ذمہ داری کے ساتھ ادا کرے۔ انہوں نے قرآن کریم کی روشنی میں واضح کیا کہ ہر مسلمان دین کی حفاظت، اخلاقی اقدار کے فروغ اور معاشرتی بھلائی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا پابند ہے۔
اس کے بعد حجۃ الاسلام والمسلمین عباد اللہ خیریان نے فقہی مسائل بیان کیے اور حضرت ابوالفضل العباسؑ کی سیرت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے حضرت عباسؑ کو بصیرت، وفاداری، شجاعت اور ولایتِ اہلِ بیتؑ کا عملی نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کربلا میں حضرت عباسؑ نے دشمن کی کسی لالچ یا دھمکی کو قبول نہیں کیا اور آخری سانس تک امام حسینؑ کے ساتھ وفاداری نبھائی۔ انہوں نے شبِ عاشور کے ان تاریخی لمحات کو بھی بیان کیا جب حضرت امام حسینؑ نے ایک رات کی مہلت صرف اس لیے طلب کی تاکہ اپنے اصحاب کے ساتھ نماز، دعا، تلاوتِ قرآن اور استغفار میں مشغول رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی عاشورا کا حقیقی پیغام ہے کہ سخت ترین حالات میں بھی اللہ تعالیٰ سے تعلق کمزور نہیں ہونا چاہیے۔
شبِ عاشور اور شام غریباں کے موقع پر ماسکو اسلامک سینٹر میں منعقد ہونے والی مرکزی مجالس میں اہلِ بیتؑ کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مجالس کا آغاز زیارتِ عاشورا، تلاوتِ قرآنِ مجید اور مرثیہ خوانی سے ہوا۔ حجۃ الاسلام علی رضا باقرزادہ نے اپنے خطاب میں اہلِ بیتؑ کی تعلیمات، نمازِ جماعت کی اہمیت، اہلِ ایمان کے درمیان اتحاد اور امام جعفر صادقؑ کی احادیث کی روشنی میں معرفتِ اہلِ بیتؑ پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اہلِ بیتؑ کی محبت دلوں کو زندہ کرتی، ایمان کو مضبوط بناتی اور امتِ مسلمہ کے درمیان اخوت اور اتحاد پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے معراجِ رسول اکرم ﷺ، جنت میں مقرب بندوں کے درجات اور حضرت امام حسینؑ کے مقامِ ہدایت، علم اور حکمت پر بھی روشنی ڈالی۔
بعد ازاں حجۃ الاسلام والمسلمین عباد اللہ خیریان نے قرآن کریم اور ائمہ اہلِ بیتؑ کی احادیث کی روشنی میں بتایا کہ نماز، حج، صدقہ، خدمتِ خلق، رسول اکرم ﷺ اور اہلِ بیتؑ سے محبت، نیز حضرت امام حسینؑ کے غم میں شرکت اور مجالسِ عزا میں حاضری ایسے اعمال ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمیشہ باقی رہتے ہیں اور آخرت میں نجات و کامیابی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ انہوں نے مؤمنین کو تقویٰ، اخلاص اور اپنی روحانی زندگی کی حفاظت کی تلقین کی۔ مجلس کا اختتام نمازِ مغرب و عشاء، پُرسوز نوحہ و مرثیہ خوانی اور اجتماعی دعائے کمیل سے ہوا۔
شبِ عاشور کے مرکزی اجتماع میں روس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیرکاظم جلالی نے بھی خصوصی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی قربانی صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے حق، عدل، آزادی، عزتِ نفس اور ظلم کے خلاف استقامت کی ابدی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عاشورا ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ انسان ہر دور میں حق کا ساتھ دے، ظلم کے سامنے سر نہ جھکائے اور اخلاقی اقدار کی حفاظت کرے۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد، باہمی احترام اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات پر عمل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یومِ عاشور کے موقع پر ماسکو اسلامک سینٹر میں مرکزی مجلسِ عزا منعقد ہوئی، جس کا آغاز قرآنِ مجید کی تلاوت اور حضرت امام حسینؑ کی یاد میں مرثیہ خوانی سے ہوا۔ حجۃ الاسلام جمال بابایف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کا پہلا عشرہ انسان کی روحانی تربیت کا بہترین موقع ہے اور حضرت امام حسینؑ سے محبت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کی اس آیت کی تشریح کی کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان سے ان کی جانیں اور مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں، اور کہا کہ حضرت امام حسینؑ اور ان کے باوفا ساتھیوں نے کربلا میں اس آیت کی عملی تفسیر پیش کی۔
بعد ازاں حجۃ الاسلام والمسلمین عباد اللہ خیریان نے صبحِ عاشور کے واقعات، حضرت امام حسینؑ کے تاریخی خطبے، اہلِ کوفہ کو حق کی دعوت، اور امام عالی مقامؑ کے عظیم اعلان “نجاست ہم سے بہت دور ہے” پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے آخری لمحے تک جنگ سے بچنے کی کوشش کی، لیکن دشمن نے پہلا تیر چلا کر معرکہ مسلط کر دیا۔ انہوں نے حضرت حرع کی توبہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی روشن مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک انسان زندہ ہے، اس کے لیے حق کی طرف واپسی کا راستہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔
نمازِ ظہر و عصر کے درمیان ماسکو اسلامک سینٹر کے ڈائریکٹر حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر مہدی بختاور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی تحریک اقتدار یا حکومت حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ دینِ اسلام کے تحفظ، امت کی اصلاح اور ظلم کے خلاف قیام کے لیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ عاشورا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دین، حق، عدل اور امت کے اتحاد کو ہر ذاتی مفاد پر مقدم رکھا جائے، جبکہ اہلِ بیتؑ سے محبت مختلف قوموں اور زبانوں کے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا مضبوط ذریعہ ہے۔
یومِ عاشور کی دوپہر کے بعد ماسکو اسلامک سینٹر میں مقیم پاکستانی شیعہ برادری کے زیرِ اہتمام بھی خصوصی مجلسِ عزا منعقد ہوئی، جس میں بڑی تعداد میں پاکستانی طلباء نے شرکت کی۔ مجلس میں اردو زبان میں نوحہ خوانی، مرثیہ خوانی، سینہ کوبی اور ماتم کیا گیا، جبکہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی، فلسفۂ کربلا اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات پر روشنی ڈالی گئی۔
اس کے علاوہ ماسکو کی امام بارگاہ حسینیہ میں پاکستانی عزاداروں کی بڑی تعداد نے شبِ عاشور کی مجالس میں شرکت کی۔ پاکستانی نوجوانوں نے اردو زبان میں نوحہ خوانی اور مرثیہ پیش کیے، جبکہ سینہ کوبی اور ماتم کے ذریعے حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ روحانی اجتماعات کا حصہ بنے۔
دوسری جانب جمہوریہ داغستان کے تاریخی شہر دربینت میں بھی یومِ عاشور انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ شہر کے قدیم محلوں اور تاریخی جامع مسجد کے اطراف ہزاروں عزادار جمع ہوئے۔ مرد، خواتین اور بچے سیاہ لباس پہن کر جلوسوں میں شریک ہوئے، آذری زبان میں نوحے پڑھے، سینہ کوبی کی اور حضرت امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ شہر بھر میں نذر و نیاز، شربت اور روایتی کھانوں کا اہتمام کیا گیا، جبکہ حضرت عباسؑ کی یاد میں علمِ عباس اور دیگر مذہبی علامات کے ساتھ جلوس نکالے گئے۔ سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود تمام مذہبی رسومات انتہائی پُرامن ماحول میں ادا ہوئیں۔
روس بھر میں منعقد ہونے والی شبِ عاشور اور یومِ عاشور کی یہ تقریبات اس حقیقت کا واضح اظہار تھیں کہ مختلف مذاہب، ثقافتوں اور قومیتوں پر مشتمل روسی معاشرہ مذہبی آزادی، باہمی احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی کی مضبوط روایت رکھتا ہے۔ مختلف زبانوں، قومیتوں اور ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے ایک ہی مقصد کے تحت حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی لازوال قربانی کو یاد کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ عاشورا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ حق، انصاف، آزادی، ایثار، وحدت اور انسانیت کے دفاع کا ہمیشہ زندہ رہنے والا عالمی پیغام ہے۔