نیپال اور بھوٹان کے ہمالیائی سلسلوں میں ٹائیگر کی موجودگی کا انکشاف

Tiger Tiger

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ہمالیہ کے بلند و بالا علاقوں میں جنگلی حیات کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ روایتی طور پر نشیبی جنگلات میں پائے جانے والے بنگال ٹائیگر اب نیپال اور بھوٹان کے پہاڑی سلسلوں میں بھی دیکھے گئے ہیں، جس نے ماہرینِ حیات کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ حالیہ کیمرہ ٹریپس کے ذریعے حاصل کی گئی تصاویر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بنگال ٹائیگر ہمالیہ کے دامن میں واقع اپنی معمول کی حدود سے باہر نکل کر بلند علاقوں کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ نیپال کے ضلع پالپا اور ارگھا کھانچی میں سطح سمندر سے 1,100 میٹر سے زائد بلندی پر تین بالغ شاہی بنگال ٹائیگروں کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے ۔ اس سے قبل بھوٹان اور مشرقی نیپال میں ایک شیر کو 3,165 میٹر کی بلندی پر دیکھا گیا تھا، جو نیپال میں بنگال ٹائیگر کی موجودگی کی سب سے بلند ترین سطح ہے ۔

ماہرین کے مطابق شیروں کا ان بلند علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنا تحفظ کی کوششوں کی کامیابی کی علامت ہے، لیکن یہ نیا چیلنج بھی پیدا کرتا ہے ۔ محکمہ نیشنل پارکس اینڈ وائلڈ لائف کنزرویشن (DNPWC) کے ہری بھدرا آچاریہ کا کہنا ہے کہ “شیر اپنا علاقہ تبھی چھوڑتے ہیں جب انہیں مجبوراً ایسا کرنا پڑے، اس لیے وہ نئے مسکن کی تلاش میں نکل رہے ہیں” ۔ اس کی ایک بڑی وجہ نشیبی علاقوں میں محفوظ جنگلات میں شیروں کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے، جس کی وجہ سے شکار کی دستیابی میں کمی آ رہی ہے اور علاقے میں بھیڑ بڑھ گئی ہے ۔

نیپال اور بھوٹان میں شیروں کی آبادی میں اضافہ محفوظ علاقوں اور جنگلی حیات کے راہداریوں (کوریڈورز) کو بہتر بنانے کا نتیجہ ہے، خاص طور پر تیرائی آرک لینڈ سکیپ میں، جو نیپال کی جنوبی سرحد کے ساتھ پھیلا ہوا ہے اور 16 محفوظ علاقوں کو آپس میں ملاتا ہے ۔ خیال رہے کہ جب نیپال نے 2009 میں سائنسی طور پر شیروں کی گنتی شروع کی تو ملک میں صرف 121 شیر تھے، جو 2022 میں بڑھ کر 355 ہو گئے ۔