آئل سمٹ 2026: ’’تات نیفٹ‘‘ نے ماحول دوست اور جدید توانائی ٹیکنالوجیز کی شاندار نمائش پیش کی

رپورٹ: اشتیاق ہمدانی

المیتیفسک (تاتارستان): آئل سمٹ آف تاتارستان 2026 کے موقع پر روس کی معروف توانائی کمپنی تات نیفٹ نے جدید ٹیکنالوجی، ماحول دوست منصوبوں اور مستقبل کی توانائی سے متعلق جدید اختراعات پر مبنی خصوصی نمائش پیش کی، جس نے ملکی اور غیر ملکی ماہرین کی بھرپور توجہ حاصل کی۔ نمائش کا بنیادی موضوع سرکلر اکانومی تھا، جس کے تحت خام مال کو زیادہ سے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے ہر پیداواری مرحلے کو دوسرے مرحلے سے جوڑا جاتا ہے تاکہ وسائل کا ضیاع کم ہو اور پیداوار کی مجموعی قدر میں اضافہ ہو۔

نمائش میں سب سے نمایاں منصوبوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) کو پکڑ کر دوبارہ صنعتی عمل میں استعمال کرنے کی جدید ٹیکنالوجی شامل تھی۔ ماہرین کے مطابق اس طریقے سے نہ صرف فضا میں کاربن کے اخراج کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ اسے دوبارہ صنعتی پیداوار میں استعمال کرکے اضافی معاشی اور تکنیکی فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

تات نیفٹ نے پانی کے تحفظ سے متعلق ایک منفرد منصوبہ بھی پیش کیا، جس کے تحت صاف کیے گئے صنعتی فضلہ پانی کو دریائے کاما کے میٹھے پانی کی جگہ تیل کے ذخائر میں دوبارہ داخل کیا جاتا ہے۔ اس اقدام سے قدرتی آبی وسائل کا تحفظ ممکن ہوتا ہے اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔

کمپنی نے اس کے علاوہ تیل کے ذخائر سے زیادہ مقدار میں تیل نکالنے کے لیے جدید کیمیائی طریقے، توانائی بچانے والا جدید صنعتی سازوسامان، کمپوزٹ میٹریل اور لچکدار پولیمر آرمڈ پائپ (GPAT) سمیت متعدد نئی ٹیکنالوجیز بھی متعارف کروائیں، جو مضبوطی، پائیداری اور کم دیکھ بھال کے باعث مستقبل کی صنعت کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

نمائش سے یہ تاثر واضح طور پر سامنے آیا کہ جدید تیل و گیس کی صنعت اب صرف خام تیل کی پیداوار تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کی توجہ ماحول کے تحفظ، وسائل کے مؤثر استعمال، جدید سائنسی تحقیق، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی پر مرکوز ہو چکی ہے۔

آئل سمٹ 2026 کی یہ نمائش اس بات کا عملی ثبوت تھی کہ مستقبل کی توانائی صرف پیداوار بڑھانے میں نہیں بلکہ ماحول دوست ٹیکنالوجیز، سائنسی اختراعات اور عالمی تعاون کے ذریعے پائیدار ترقی کو یقینی بنانے میں مضمر ہے۔