رپورٹ: اشتیاق ہمدانی
المیتیفسک (تاتارستان): روسی جمہوریہ تاتارستان کے تیل کے دارالحکومت المیتیفسک میں آئل سمٹ آف تاتارستان 2026 کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں حکومتی نمائندوں، عالمی شہرت یافتہ سائنس دانوں، توانائی کے ماہرین، تیل و گیس کمپنیوں کے سربراہان اور مختلف ممالک سے آئے ہوئے طلبہ نے شرکت کی۔ اس سال کے سمٹ کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں توانائی کے مستقبل، جدید ٹیکنالوجی، ماحول دوست صنعت اور عالمی سائنسی تعاون جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
سمٹ کا انعقاد ہائی اسکول آف آئل (Higher School of Oil) میں کیا گیا، جہاں بیک وقت ساتواں بین الاقوامی آئل اینڈ گیس یوتھ فورم بھی جاری تھا۔ اس فورم میں 6 ممالک کے 45 جامعات سے تعلق رکھنے والے 240 طلبہ شریک ہوئے، جنہیں عالمی ماہرین سے براہِ راست سیکھنے اور جدید تحقیقی تجربات سے آگاہ ہونے کا موقع ملا۔
اس سال کے سمٹ میں نوبیل امن انعام یافتہ جنوبی کوریا کے ممتاز ماہر ماحولیات اور توانائی پروفیسر رائے کوون چنگ کی شرکت نے تقریب کو عالمی اہمیت عطا کی۔ ان کے علاوہ دنیا کے متعدد معروف سائنس دان اور توانائی کے ماہرین بھی شریک ہوئے، جنہوں نے توانائی کے مستقبل، ماحولیاتی تحفظ اور نئی ٹیکنالوجیز پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
سمٹ کی مرکزی نشست میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ دور میں توانائی کے شعبے کی پائیدار ترقی صرف اسی صورت ممکن ہے جب سائنس، صنعت اور حکومت باہمی اشتراک سے کام کریں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ جدید تحقیق، نئی ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور حکومتی تعاون کو یکجا کیے بغیر توانائی کے عالمی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔
شرکاء نے خاص طور پر سرکلر اکانومی (Circular Economy) یا “معاشی چکر کے مکمل استعمال” کے تصور پر زور دیا۔ اس ماڈل کے تحت صنعتی پیداوار کے ہر مرحلے کو ایک دوسرے سے اس طرح منسلک کیا جاتا ہے کہ ایک عمل سے حاصل ہونے والا ضمنی مواد دوسرے عمل کے لیے قیمتی خام مال بن جاتا ہے۔ اس سے وسائل کا ضیاع کم، پیداوار کی مجموعی قدر میں اضافہ اور ماحول پر منفی اثرات میں نمایاں کمی آتی ہے۔
سمٹ کی سب سے اہم تقریب بین الاقوامی “گلوبل انرجی ایوارڈ 2026” کے فاتحین کے اعلان کی تھی۔ یہ ایوارڈ توانائی کے شعبے میں دنیا کے معتبر ترین اعزازات میں شمار ہوتا ہے۔ اس سال فاتحین کے نام روایتی توانائی، غیر روایتی توانائی اور توانائی کے نئے استعمال کی تین مختلف کیٹیگریز میں سامنے آئے۔ اپنے ویڈیو پیغامات میں فاتحین نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کے مسائل کا حل صرف بین الاقوامی سائنسی تعاون، تحقیق اور نوجوان نسل کی مؤثر تربیت سے ہی ممکن ہے۔
سمٹ سے یہ واضح پیغام ملا کہ تاتارستان صرف روس کا اہم تیل پیدا کرنے والا خطہ ہی نہیں بلکہ توانائی، سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم کے میدان میں بھی عالمی سطح پر اپنی مضبوط شناخت قائم کر رہا ہے۔ عالمی ماہرین، صنعت کاروں اور نوجوان محققین کی ایک ہی پلیٹ فارم پر موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل کی توانائی کے لیے بین الاقوامی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔