ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران نے بلغاریہ کو امریکی فوجی طیاروں کی تعیناتی کی اجازت دینے پر تیسری بار سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ “بلغاریہ میں فیصلہ سازوں کو اپنے فوجی اڈوں پر امریکی فضائی ریفیولنگ طیارے کی میزبانی کے خطرناک فیصلے کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔”
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ تہران کا ماننا ہے کہ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی حمایت میں ایسے فیصلے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “بلغاریہ کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایرانی عوام کا کبھی بلغاریہ سے کوئی مسئلہ نہیں رہا۔”
یہ انتباہ چند روز بعد سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بلغاریہ کے وزیراعظم رومن ریڈیف کا عوامی طور پر شکریہ ادا کیا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ “بلغاریہ ایران کی دھمکیوں کے باوجود ٹرمپ کے ساتھ کھڑا ہے اور امریکی فضائیہ کے اڈے کی تعیناتی کی حمایت کرتا ہے۔”
بلغاریہ کے وزیر دفاع دیمیتار سٹویانوف نے عوام کو یقین دلایا کہ خطرات محدود ہیں، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ بھی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی طرف سے میزائل حملے کا خدشہ انہیں پریشان نہیں کرتا، جبکہ دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ پہلے کے مقابلے میں کم ہے۔ اس ہفتے بلغاریہ کی پارلیمنٹ نے امریکی طیارے کو بیزمر فوجی ائیر بیس پر منتقل کرنے کی منظوری دی، جس پر مقامی باشندوں نے احتجاج کیا ہے۔