ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
سی این این پر شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ شروع کرتے وقت ایک اہم مقصد تہران کو مشرق وسطیٰ میں پراکسی گروپوں کی مالی معاونت سے روکنا تھا، جنہوں نے متعدد امریکی فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کیا تھا۔ تاہم جب بات روس کی ایران کو ان امریکیوں کو نشانہ بنانے میں مدد دینے کی آتی ہے تو ٹرمپ بظاہر بے پرواہ نظر آتے ہیں۔ دفاع سیکرٹری پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ کمیٹی میں گواہی دی کہ چین اور روس ایران کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے دو دن بعد سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے اس موضوع پر ایک سوال کو نظرانداز کیا۔ اس کے بعد ٹرمپ نے ہیگستھ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں چین اور روس کے رہنماؤں نے یقین دلایا ہے کہ وہ ایران کو ہتھیار نہیں بیچ رہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس ایران کو امریکی اڈوں کی سیٹلائٹ تصاویر فراہم کر رہا ہے۔ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ صدر پوتن سے اس بارے میں پوچھیں گے۔ یہ صورتحال ٹرمپ کے پہلے دور کی یاد دلاتی ہے، جب روس پر افغانستان میں امریکی فوجیوں پر باؤنٹی رکھنے کا الزام تھا۔ ٹرمپ نے اس وقت اس خبر کو ‘جھوٹ’ اور ‘جعلی خبر’ قرار دیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ رویہ نہ صرف امریکا کو روس کے ساتھ ایک ہی اخلاقی سطح پر لاتا ہے، بلکہ یہ روس کو پیغام دیتا ہے کہ ایران کو امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے میں مدد دینا ٹرمپ کے لیے کوئی سرخ لکیر نہیں ہے۔