یوکرین جنگ میں امریکا اور اتحادی بند گلی میں داخل

Trump Trump

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

یوکرین جنگ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی مشترکہ حکمت عملی مشکل صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تسلیم کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، تاہم امریکا اس تنازع میں غیر جانبدار ثالث نہیں بلکہ واضح طور پر یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے۔ نیٹو اور جی 7 جیسے مغربی اتحادوں میں گہری دراڑیں نمایاں ہو رہی ہیں۔ نیٹو سربراہی اجلاس میں دفاعی اخراجات، یوکرین کو امداد اور اتحاد کی اسٹریٹجک سمت پر اختلافات سامنے آئے، جہاں امریکا نے اپنے مفادات کے لیے تجارتی دباؤ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جبکہ یورپی ممالک نے اپنی دفاعی خودمختاری پر زور دیا۔ جی 7 سربراہی اجلاس میں بھی امریکا اور یورپ کے درمیان موسمیاتی تبدیلی، سلامتی اور ایران حملوں جیسے مسائل پر اختلافات نمایاں رہے، اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک متحدہ مغرب کا وجود ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

واشنگٹن کا “امریکا فرسٹ” ایجنڈا اور یورپ کی اپنی دفاعی خودمختاری قائم کرنے کی کوششوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری نے اتحاد کو مزید کمزور کیا ہے۔ روسی ترجمان ماریا زاخارووا نے بھی کہا کہ نیٹو اتحادیوں کے درمیان دراڑیں ختم نہیں ہوئیں، اور اتحاد کی طرف سے یکجہتی کے مظاہرے کے باوجود ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں شگاف باقی ہیں۔