پولینڈ جوہری روک تھام چاہتا ہے، مگر جوہری ہتھیار نہیں

Poland Poland

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

پولینڈ نے اپنی سرزمین پر جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ تعیناتی کے بارے میں مبہم اشارے دیے ہیں، جس کا مقصد بظاہر غیر ملکی ہتھیاروں کی میزبانی کیے بغیر روک تھام کے فوائد حاصل کرنا ہے۔ جمعرات کو پولینڈ کے نائب وزیر دفاع پاول زالیوسکی نے نیٹو ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کو بتایا کہ پولینڈ اپنی سرزمین پر جوہری وارہیڈز نہیں رکھنا چاہتا، تاہم وہ نیٹو کی جوہری روک تھام میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ ان ریمارکس نے کافی ہلچل مچا دی، جس کی وجہ سے وزیر دفاع ولادیسلاو کوسینیک-کامیش نے وضاحت جاری کی کہ پولینڈ نیٹو نیوکلیئر شیئرنگ پروگرام میں حصہ لینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولینڈ کی حکومت کا موقف غیر متزلزل ہے۔ بعد ازاں زالیوسکی نے اپنے اصل موقف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولینڈ جوہری ہتھیاروں کو ذخیرہ کیے بغیر نیٹو کی جوہری روک تھام میں حصہ لینے کے لیے پرعزم ہے.