ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بلومبرگ کے کالم نگار کرس براینٹ نے رپورٹ دی ہے کہ جرمن سیاستدانوں کی طرف سے الٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) پر پابندی عائد کرنے کی کوششوں اور میڈیا کی مہم کا الٹا اثر ہوا، جس نے پارٹی کو سیکسنی آنہالٹ کے انتخابات میں کامیابی دلائی۔ برائنٹ کا کہنا ہے کہ امیدوار کو خطرناک قرار دینے کی کوششوں نے انہیں ایک آئیکون کلسٹ کے طور پر متعارف کرایا، جبکہ ووٹروں میں یہ احساس پیدا کیا کہ انہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ 6 ستمبر کو ہونے والے انتخابات میں اے ایف ڈی نے 43.8 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ چانسلر مرز کی کرسچن ڈیموکریٹک یونین کو صرف 17.2 فیصد ووٹ ملے، جو پارٹی کی ریاست میں بدترین کارکردگی ہے۔ اسی دن سیکسنی آنہالٹ کی پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر اے ایف ڈی کے خلاف احتجاج ہوا، جہاں شرکاء نے احتجاجی کیمپ قائم کرنے کا اعلان کیا۔