
اشتیاق ہمدانی
مشرقی اقتصادی فورم 2026 نے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ روس کی اقتصادی اور بین الاقوامی حکمت عملی میں ایشیا، یوریشیا اور غیر مغربی دنیا کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ فورم میں 78 ممالک سے 9 ہزار 300 سے زائد افراد نے شرکت کی، جن میں روس کی جانب سے غیر دوست قرار دیے گئے 18 ممالک کے نمائندے بھی شامل تھے۔ غیر ملکی وفود میں چین، انڈونیشیا، جاپان، ویتنام، جنوبی کوریا، بھارت اور میانمار کی نمائندگی نمایاں رہی، جبکہ انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو فورم کے اہم ترین غیر ملکی مہمانوں میں شامل تھے۔
فورم کی کاروباری سرگرمیوں کا مرکز محض سیاسی بیانات نہیں بلکہ عملی اقتصادی تعاون رہا۔ چین، بھارت، آسیان ممالک، ویتنام اور منگولیا کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ اس کے ساتھ ایسے یورپی ممالک کے ساتھ موجود اقتصادی روابط کو برقرار رکھنے کی کوشش بھی نمایاں رہی جو روس کے ساتھ عملی تعاون جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

فورم کے عملی نتائج بھی اس کے اقتصادی حجم کی عکاسی کرتے ہیں۔ روسی صدر کے مشیر اور مشرقی اقتصادی فورم کی آرگنائزنگ کمیٹی کے ایگزیکٹو سیکریٹری انتون کوبیاکوف کے مطابق فورم کے دوران 318 معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 7 ٹریلین روبل رہی۔ اس رقم میں وہ معاہدے شامل نہیں جن کی تفصیلات تجارتی راز کے زمرے میں آتی ہیں۔
چیک ماہر رومان بلاشکو کے مطابق فورم میں شریک ممالک اور وفود کی نوعیت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ روس کے خارجی اقتصادی روابط میں ہونے والی تبدیلی عارضی یا وقتی حکمت عملی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اور ساختی عمل ہے۔ ان کے خیال میں روس چین، بھارت، آسیان، منگولیا، سربیا اور یوریشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو زیادہ منظم اور وسیع بنیادوں پر استوار کر رہا ہے۔
بلاشکو اس تبدیلی کو شنگھائی تعاون تنظیم کے بڑھتے ہوئے کردار سے بھی جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم اب ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کے بڑے ادارہ جاتی ستونوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے رکن ممالک دنیا کی ایک بڑی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں اور وسیع قدرتی وسائل، صنعتی صلاحیت، توانائی کے ذخائر اور عالمی معیشت میں بڑھتے ہوئے حصے کے حامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یوریشیا موجودہ صدی کی عالمی معیشت میں ایک کلیدی خطے کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ توانائی، ٹرانسپورٹ، صنعت، انفراسٹرکچر، معدنی وسائل، لاجسٹکس اور ٹیکنالوجی میں طویل المدتی منصوبے مستقبل کی تجارت اور اقتصادی انضمام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ شمال۔جنوب اور مشرق۔مغرب ٹرانسپورٹ کوریڈورز، بندرگاہوں کی ترقی، ریلوے نیٹ ورک اور توانائی کے منصوبے ایک نئے یوریشیائی اقتصادی ڈھانچے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بلاشکو کے مطابق اسے محض روس کا “مشرق کی جانب رخ” قرار دینا کافی نہیں، کیونکہ معاملہ اب نئے تجارتی شراکت دار تلاش کرنے سے آگے بڑھ کر بیرونی اقتصادی تعلقات کے پورے ماڈل میں تبدیلی تک پہنچ رہا ہے۔ ان کے خیال میں یہ نیا ماڈل زیادہ تنوع، باہمی مفاد، علاقائی تعاون اور کثیر قطبی نظام پر مبنی ہے، جبکہ عالمی معیشت بھی آہستہ آہستہ ایک ہی مرکز کے گرد گھومنے والے نظام سے دور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
اسی تناظر میں سربیا کی شرکت بھی اہم رہی۔ فورم کے موقع پر روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے سربیا گیس کے نگران بورڈ کے چیئرمین الیگزینڈر وولین سے ملاقات کی، جس میں روسی قدرتی گیس کی سربیا کو فراہمی جاری رکھنے اور متعلقہ معاہدے کی مدت میں توسیع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ روس کی موجودہ اقتصادی حکمت عملی صرف نئے ایشیائی اور غیر مغربی شراکت داروں کے ساتھ روابط بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ پہلے سے موجود یورپی اقتصادی تعلقات کو بھی ممکنہ حد تک برقرار رکھنے پر مبنی ہے۔
سربیا کی معروف سیاسی تجزیہ کار، صحافی اور مرکز برائے جیوپولیٹیکل اسٹڈیز کی سربراہ ڈراگانا تریفکووچ نے بھی پہلی مرتبہ مشرقی اقتصادی فورم میں شرکت کی۔ ولادی ووستوک کے اپنے پہلے دورے کے دوران انہوں نے کاروبار، سائنس اور میڈیا کے درمیان یوریشیائی سطح پر نئے روابط کے امکانات کا جائزہ لیا۔

ان کے مطابق سربیا کے لیے ایک طرف روس کے ساتھ تاریخی دوستی اور تعاون برقرار رکھنا اور دوسری جانب مغربی ممالک کے دباؤ کا سامنا کرنا ایک نہایت پیچیدہ توازن ہے۔ انہوں نے اس صورت حال کو ایک طرح کی “اکروبیٹکس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود سربیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ روس کے ساتھ تعاون کے حق میں ہے۔
تریفکووچ نے روس کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کیے جانے کے تصور سے بھی اختلاف کیا۔ ان کے مطابق مغربی میڈیا میں روس کے حوالے سے جو تصویر پیش کی جاتی ہے اور روس کے اندر ان کے ذاتی مشاہدات میں نمایاں فرق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس میں انہیں سیاسی اور سماجی ماحول موجودہ کشیدہ یورپی فضا کے مقابلے میں زیادہ پُرسکون محسوس ہوا۔ سربیا کی خودمختاری اور قومی مفادات کے حوالے سے ان کا مؤقف یہ ہے کہ بلغراد کے لیے روس اور چین کے ساتھ مضبوط روابط طویل المدتی اہمیت رکھتے ہیں۔
جارجیا کے سیاسی تجزیہ کار اور SIKHA Foundation کے بانی آرچل سیخارولیدزے بھی مشرقی اقتصادی فورم کو عالمی اقتصادی طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کی ایک علامت قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق آج کی دنیا روایتی مغربی جغرافیائی حدود سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکی ہے اور متعدد اہم معاشی اور سیاسی قوتیں اب یورپ یا مغربی دنیا سے باہر موجود ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ روس کے لیے اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی روابط برقرار رکھنے کے لیے مغربی ممالک کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات اب واحد راستہ نہیں رہے۔ ان کے مطابق روس کو مکمل طور پر بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی اور غیر مغربی ممالک اب بھی روس کے ساتھ اقتصادی تعاون میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
تاہم وہ اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ مغرب عالمی سیاسی اور اقتصادی نظام میں اپنی موجودہ حیثیت آسانی سے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے خیال میں آنے والے برسوں میں عالمی سطح پر اقتصادی تعاون اور مسابقت دونوں بیک وقت جاری رہیں گے۔
اسی بدلتی ہوئی عالمی اقتصادی تصویر میں مشرقی اقتصادی فورم 2026 میں پاکستان کی سفارتی موجودگی خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے ولادی ووستوک میں فورم کے ایک پینل میں شرکت کرتے ہوئے روس کے مشرق بعید اور پاکستان کے درمیان تخلیقی معیشت، ثقافت، تجارت اور عوامی روابط کے امکانات پر پاکستان کا نقطۂ نظر پیش کیا۔
انہوں نے فلم، اینیمیشن، فیشن، دستکاری، قیمتی پتھروں، آڈیو ویژول مواد اور تخلیقی صنعتوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کی نشاندہی کی۔ تاہم ان کا یہ دورہ محض فورم کی ایک نشست تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے روس کے مشرق بعید میں پاکستانی طلبہ، کاروباری شخصیات، زرعی شعبے کے نمائندوں اور صحافیوں سے بھی ملاقاتیں کیں، جس سے اس دورے کو رسمی سفارتی شرکت کے بجائے عملی رابطہ کاری کی ایک وسیع شکل حاصل ہوئی۔
5 ستمبر کو روسی خبر رساں ادارے TASS سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے ولادی ووستوک کو “روس کا موتی” قرار دیا اور روس کے مشرق بعید میں سیاحت کے وسیع امکانات کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے بتایا کہ ولادی ووستوک آنے سے قبل وہ کامچاٹکا بھی گئے، جہاں کی قدرتی خوبصورتی، گیزرز، جنگلی حیات اور منفرد جغرافیہ نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا۔

سفیر کا کہنا تھا کہ زیادہ پاکستانی سیاحوں کو کامچاٹکا، ولادی ووستوک اور روس کے دیگر مشرقی علاقوں کا رخ کرنا چاہیے۔ یہ بات پاک۔روس تعلقات کے ایک ایسے پہلو کی طرف توجہ دلاتی ہے جس پر اب تک نسبتاً کم کام ہوا ہے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات میں دفاع، توانائی، تجارت اور سیاست کا ذکر تو اکثر ہوتا ہے، لیکن سیاحت اور عوامی روابط ابھی بھی اپنی حقیقی صلاحیت سے کافی پیچھے ہیں۔
تعلیمی تعاون کے حوالے سے بھی سفیر نے ایک اہم حقیقت بیان کی۔ ان کے مطابق Far Eastern Federal University میں اس وقت سات پاکستانی طلبہ زیر تعلیم ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ مستقبل میں یہ تعداد بڑھے۔ انہوں نے اپنے دورے کے دوران پاکستانی طلبہ سے ملاقات بھی کی۔ یہ رابطہ اس لیے اہم ہے کہ اگر پاکستان اور روس مستقبل کے تعلقات کو صرف سرکاری سطح سے آگے لے جانا چاہتے ہیں تو جامعات، طلبہ اور نوجوان نسل کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا ہوگا۔
تجارت کے میدان میں بھی روس کے مشرق بعید اور پاکستان کے درمیان کچھ دلچسپ امکانات پہلے سے موجود ہیں۔ سفیر کے مطابق کامچاٹکا میں پاکستانی آلو، پنک سالٹ، چاول اور کینو سمیت پاکستانی زرعی اور غذائی مصنوعات کے بارے میں مثبت رائے پائی جاتی ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے گزشتہ سال ولادی ووستوک سے تقریباً 10 ہزار ٹن سویا بین درآمد کیا تھا۔ اس طرح دونوں اطراف خوراک اور زرعی تجارت کو مزید وسعت دینے کی عملی گنجائش موجود ہے۔


فیصل نیاز ترمذی نے تعاون کو صرف خوراک یا روایتی تجارت تک محدود رکھنے کے بجائے سیاحت، تعلیم، مصنوعی ذہانت اور موسیقی تک بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے روس کے مشرق بعید کی قدرتی خوبصورتی کو پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے ایک ممکنہ موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ دستاویزی اور فیچر فلموں کی شوٹنگ کے لیے غیر معمولی امکانات رکھتا ہے۔
ان کا یہ مؤقف بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ روس کا مشرق بعید پاکستان اور روس کے درمیان ایک رابطہ پل بن سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاک۔روس تعلقات طویل عرصے تک ماسکو مرکز سفارت کاری کے گرد گھومتے رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستانی سفیر کا ماسکو سے ہزاروں کلومیٹر دور ولادی ووستوک اور کامچاٹکا جانا، وہاں کاروباری حلقوں، جامعات، طلبہ، زرعی شعبے اور میڈیا سے براہ راست رابطے قائم کرنا ایک فعال اور متحرک سفارتی طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے۔
سفارت کاری میں دارالحکومتوں کے اندر ہونے والی ملاقاتیں اپنی جگہ اہم ہوتی ہیں، لیکن کسی بڑے ملک کی حقیقی اقتصادی، تعلیمی اور علاقائی صلاحیت کو سمجھنے کے لیے اس کے مختلف خطوں تک پہنچنا بھی ضروری ہے۔ اس اعتبار سے سفیر فیصل نیاز ترمذی کی روس کے مشرق بعید تک رسائی اور مشرقی اقتصادی فورم میں شرکت ایک قابل قدر اور بروقت قدم ہے۔ یہ پاکستان کی سفارتی موجودگی کو ماسکو سے آگے لے جانے کے ساتھ روس کے اس خطے سے براہ راست رابطہ قائم کرتی ہے جو خود ماسکو کی ایشیا پیسیفک حکمت عملی میں تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے۔
میرے خیال میں پاکستان کے نقطۂ نظر سے مشرقی اقتصادی فورم کی اہمیت کو محض ایک روسی علاقائی اقتصادی تقریب کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ولادی ووستوک روس کا بحرالکاہل کی جانب ایک اہم دروازہ ہے اور مشرقی اقتصادی فورم وہ پلیٹ فارم ہے جہاں روس کی مشرقی اقتصادی حکمت عملی چین، آسیان، بھارت اور ایشیا پیسیفک کی دوسری معیشتوں کے ساتھ عملی شکل اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔
میرے تجزیے کے مطابق پاکستان طویل عرصے تک روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو زیادہ تر ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ اور روایتی سفارتی، سیاسی اور دفاعی روابط کے زاویے سے دیکھتا رہا ہے، جبکہ روس کا جغرافیہ اور اقتصادی امکانات اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ اسی لیے پاکستانی سفیر کا روس کے مشرق بعید تک جانا محض پروٹوکول کا حصہ نہیں بلکہ اس وسیع جغرافیائی اور اقتصادی حقیقت کو سمجھنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
میرے خیال میں پاکستان کے لیے مشرقی اقتصادی فورم ایک ایسا پلیٹ فارم بن سکتا ہے جہاں روس کے ساتھ تعلقات کو صرف توانائی یا روایتی تجارت تک محدود رکھنے کے بجائے بندرگاہوں، لاجسٹکس، زرعی مصنوعات، خوراک، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، معدنیات، سیاحت، تعلیم، ثقافت اور تخلیقی صنعتوں تک وسعت دی جا سکتی ہے۔
پاکستان جغرافیائی طور پر وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، بحیرہ عرب اور چین کے درمیان ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ کراچی اور گوادر کی بندرگاہیں، چین کے ساتھ زمینی رابطہ اور وسطی ایشیا کے ساتھ ممکنہ ٹرانسپورٹ کوریڈورز پاکستان کو روس کے لیے جنوبی ایشیا اور بحر ہند کی منڈیوں تک رسائی کے ایک ممکنہ راستے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
میرے نزدیک پاکستانی سفیر کے اس دورے کو ایک آغاز کے طور پر لیا جانا چاہیے۔ اگلا مرحلہ یہ ہونا چاہیے کہ پاکستانی کاروباری وفود، چیمبرز آف کامرس، تعلیمی ادارے، سیاحتی کمپنیاں، بندرگاہی ادارے، آئی ٹی کمپنیاں اور سرمایہ کاری سے متعلق تنظیمیں بھی مشرقی اقتصادی فورم اور روس کے مشرق بعید کے ساتھ منظم اور مستقل رابطہ قائم کریں۔
اگر سفارتی سطح پر قائم ہونے والے یہ روابط تجارتی معاہدوں، طلبہ کے تبادلوں، سیاحتی پروگراموں، مشترکہ فلم اور میڈیا منصوبوں، زرعی تجارت اور ٹیکنالوجی تعاون میں تبدیل ہوتے ہیں تو ولادی ووستوک پاک۔روس تعلقات میں ایک نئے اقتصادی اور عوامی رابطے کے دروازے کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
مشرقی اقتصادی فورم 2026 کے نتائج اسی وسیع تر عالمی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اصل اہمیت صرف اس بات کی نہیں کہ فورم میں کتنے ممالک یا کتنے ہزار افراد شریک ہوئے، بلکہ یہ زیادہ اہم ہے کہ کون سے ممالک کس نوعیت کے طویل المدتی منصوبوں، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ روابط اور اقتصادی شراکت داری میں داخل ہو رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے بھی اصل سوال اب صرف فورم میں شرکت کا نہیں بلکہ اس شرکت کو نتیجہ خیز بنانے کا ہے۔ سفیر فیصل نیاز ترمذی کا ولادی ووستوک اور کامچاٹکا تک پہنچنا، مقامی کاروباری، تعلیمی، سیاحتی اور میڈیا حلقوں سے رابطے قائم کرنا ایک مثبت سفارتی آغاز ہے۔ اگر اسلام آباد اس پیش رفت کو مستقل اقتصادی اور علاقائی حکمت عملی سے جوڑتا ہے تو روس کا مشرق بعید آنے والے برسوں میں پاک۔روس تعلقات کے ایک نئے اور نسبتاً غیر دریافت شدہ باب کی بنیاد بن سکتا ہے۔