بوچا سے متعلق رپورٹ عالمی تحقیقات اور مکالمے کی بنیاد بن سکتی ہے: ماریا زاخارووا

ماسکو (صدائے روس) روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ بوچا کے واقعات سے متعلق پیش کی گئی نئی رپورٹ عالمی برادری کو روس کا مؤقف سمجھنے میں مدد دینے کے ساتھ آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات اور مکالمے کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔

وہ ماسکو میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں، جس میں بین الاقوامی عوامی ٹریبونل کے چیئرمین اور خصوصی فوجی آپریشن کی تاریخ کے مرکز کے ڈائریکٹر ماکسیم گریگوریف نے بوچا کے واقعات سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ پیش کی۔

پریس کانفرنس کے دوران روسی اردو نیوز پورٹل ’’صدائے روس‘‘ کے چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی نے ماریا زاخارووا نے سوال کیا کہ روس بوچا کے واقعات پر کھلی بحث کا حامی ہے، تو پیش کردہ رپورٹ عالمی برادری کو روس کا مؤقف بہتر طور پر سمجھنے اور بین الاقوامی مکالمے کے امکانات پیدا کرنے میں کس طرح مدد دے سکتی ہے؟

سوال کے جواب میں ماریا زاخارووا نے کہا کہ یہ رپورٹ عالمی برادری کے سامنے ٹھوس شواہد اور مخصوص مثالیں پیش کرتی ہے، جن کے ذریعے روس کے اس مؤقف کو سمجھا جاسکتا ہے کہ بوچا میں ایک اشتعال انگیز کارروائی کی گئی تھی اور اس حوالے سے معلوماتی مہم اب بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں محض ناموں کی فہرست شامل نہیں بلکہ متعلقہ افراد کے مکمل نام، شناخت اور ان کی مبینہ فوجی، انتہا پسندانہ یا یوکرین کی مسلح افواج سے منسلک سرگرمیوں کی تفصیلات بھی پیش کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق جن افراد کو عام شہریوں کے طور پر پیش کیا گیا، رپورٹ میں شامل معلومات سے ان میں سے بعض کے فوجی یا مسلح سرگرمیوں سے تعلق کا دعویٰ سامنے آتا ہے۔

زاخارووا نے کہا کہ یہ دستاویز ان ممالک، صحافیوں اور بین الاقوامی اداروں کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے جو بوچا میں پیش آنے والے واقعات کو غیر جانب دارانہ طور پر سمجھنا چاہتے ہیں۔ بعض کے لیے یہ معلومات حقائق واضح کرسکتی ہیں، جبکہ دوسروں کے لیے اپنی الگ تحقیقات یا قانونی تفتیش شروع کرنے کا نقطۂ آغاز بن سکتی ہیں۔

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان کے مطابق عالمی برادری کو یا تو روسی فوج پر عائد کیے جانے والے الزامات کے حق میں قابلِ تصدیق ثبوت پیش کرنے چاہییں یا پھر اس معاملے کی جامع اور آزادانہ تحقیقات کرانی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ حقائق سامنے آنے کے بعد بھی پرانے الزامات کو تحقیقات کے بغیر دہرانا غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے بعض ممالک یہ مؤقف اختیار کرسکتے تھے کہ ان کے پاس مکمل معلومات نہیں تھیں اور انہوں نے کیف حکومت کی فراہم کردہ تفصیلات پر اعتماد کیا، لیکن اب نئی رپورٹ میں مخصوص نام اور معلومات سامنے آنے کے بعد ان شواہد کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

ماریا زاخارووا نے مزید کہا کہ اگر بوچا کی یادگاروں اور تختیوں پر ایسے افراد کے نام درج ہیں جو کسی دوسری جگہ ہلاک ہوئے، کسی دوسرے مقام پر دفن ہیں یا جن کا بوچا سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوتا، تو اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں۔

انہوں نے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت، ان کی موت کے مقام اور حالات کا تعین کرنے کے لیے جامع قانونی اور فرانزک تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق ضرورت پڑنے پر لاشوں کو قبروں سے نکال کر دوبارہ طبی معائنہ بھی کیا جانا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ متعلقہ افراد کون تھے، ان کی موت کیسے واقع ہوئی اور وہ بوچا میں کس طرح پہنچے۔

پریس کانفرنس میں ماکسیم گریگوریف نے رپورٹ کے مختلف نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ فہرستوں میں شامل بعض افراد بوچا میں پیدا نہیں ہوئے تھے اور ان کے شہر کا مستقل رہائشی ہونے پر بھی سوالات موجود ہیں۔ رپورٹ میں بعض افراد کی فوجی یا مسلح تنظیموں سے مبینہ وابستگی اور مختلف مقامات پر تدفین سے متعلق معلومات بھی شامل کی گئی ہیں۔

روسی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ان تمام دعوؤں کی تصدیق کے لیے ایک شفاف، پیشہ ورانہ اور بین الاقوامی تحقیقات ضروری ہیں۔ ماریا زاخارووا نے عالمی میڈیا اور صحافتی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ کسی ایک فریق کے بیانات تک محدود رہنے کے بجائے دستیاب شواہد کا آزادانہ جائزہ لے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس اس معاملے کو اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر اٹھاتا رہا ہے، تاہم ماضی میں بوچا سے متعلق بعض تحقیقاتی اقدامات کو آگے بڑھانے میں رکاوٹیں سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق اس کے باوجود روس حقائق پر مبنی تحقیقات اور کھلے بین الاقوامی مکالمے کا مطالبہ جاری رکھے گا۔

پریس کانفرنس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ بوچا کے واقعات سے متعلق بحث کو سیاسی الزامات سے نکال کر قابلِ تصدیق شواہد، فرانزک معائنے اور قانونی تحقیقات کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے تاکہ ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت اور موت کے اصل حالات سمیت واقعات کی مکمل حقیقت سامنے آسکے۔