ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی تازہ تجویز مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دے دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے باعث معاہدے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے رواں ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکا کو سات روزہ عملی منصوبہ پیش کیا تھا۔ تجویز کے تحت ایران آبنائے ہرمز کھولنے اور اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں نرم کرنے، منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے اور ایسی جنگ بندی پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہا تھا جس میں لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بھی ختم کی جائیں۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی تجویز مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ شدید نقصان اٹھا رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ بھی معاہدہ کرنا پسند کرتے ہیں، تاہم ایران کی پیش کردہ شرائط قابل قبول نہیں۔ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران نے ٹرمپ کی جانب سے عوامی سطح پر تجویز مسترد کیے جانے کا نوٹس لیا ہے، تاہم ایران اب بھی امریکی حکومت کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔ ان کے مطابق اگر ضروری شرائط پوری کردی جائیں تو سات روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول کر بحری آمدورفت معمول پر لائی جاسکتی ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت محدود کرکے ایران نے خود اپنے لیے مشکلات پیدا کیں اور اس کے نتیجے میں امریکی ناکہ بندی نے ایرانی تیل کی آمدنی کو متاثر کیا۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور مذاکرات میں اس کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہے۔ ٹرمپ نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو انہیں ایران کو ’’تباہ‘‘ کرنے کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ کرنا ہوگا۔ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجویز مسترد کیے جانے سے قبل امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ امریکی صدر نے یہ منصوبہ مسترد کردیا ہے اور نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ امریکی بمباری شروع ہونے کی توقع ظاہر کی ہے۔ تاہم امریکی حکام کے مطابق علاقائی ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کا عمل اب بھی جاری ہے۔