سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچچ نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

Serbia’s President Aleksandar Vucic Serbia’s President Aleksandar Vucic

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچچ نے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات سے قبل 27 ستمبر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ووچچ نے آئین کی متعلقہ شق کا حوالہ دیتے ہوئے استعفے کی دستاویز پر دستخط کیے۔ ووچچ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے دوران استعفیٰ دیا ہے۔ سربیا کے آئین کے تحت وہ مزید صدارتی انتخابات میں امیدوار نہیں بن سکتے۔ ان کے استعفے کے بعد سابق وزیراعظم اور موجودہ پارلیمانی اسپیکر آنا برنابچ قائم مقام صدر کا منصب سنبھالیں گی۔ وہ حکمران سربین پروگریسو پارٹی کی نمائندہ بھی ہیں۔ الیگزینڈر ووچچ آئندہ انتخابات میں سربین پروگریسو پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے وزارت عظمیٰ کے لیے حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے استعفے کے اعلان کے بعد بلغراد میں ان کی رہائش گاہ کے باہر حامی بھی جمع ہوگئے، جنہوں نے ’’ووچچ، ہماری قوم کے باپ‘‘ جیسے نعروں والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

سربیا کے قانون کے مطابق صدر کے استعفے کے بعد تین ماہ کے اندر نئے صدارتی انتخابات کرانا ضروری ہے۔ اس طرح سربیا کے شہریوں کو رواں سال دو مرتبہ ووٹ ڈالنا ہوگا۔ ملک میں قبل از وقت پارلیمانی انتخابات 25 اکتوبر کو شیڈول ہیں، جبکہ اس کے بعد قبل از وقت صدارتی انتخابات بھی ہوں گے۔

ووچچ نے 29 جون کو ہی اپنے استعفے کا عندیہ دیا تھا، جبکہ 23 جولائی کو انہوں نے رواں موسم خزاں میں ملک میں پارلیمانی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت ان کا کہنا تھا کہ صدارتی انتخابات اکتوبر یا نومبر کے آس پاس بعد میں کرائے جائیں گے۔ روسی وزارت خارجہ کے یورپی امور کے دوسرے شعبے کے سربراہ یوری لپسن نے 9 اگست کو کہا تھا کہ سربیا میں ایسی قوتیں متحرک ہورہی ہیں جو نئے انتخابی مرحلے کے دوران ملک کی صورتحال کو غیر مستحکم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔