جنوبی کوریا کا زیلنسکی سے باضابطہ معافی اور وضاحت کا مطالبہ

Zelensky Zelensky

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

جنوبی کوریا نے یوکرین سے شمالی کوریا کے دو جنگی قیدیوں کی خفیہ منتقلی کا انکشاف کرنے پر باضابطہ وضاحت اور معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ سیول نے الزام عائد کیا ہے کہ کیف نے رازداری کے معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد اس معاہدے کے وجود سے بھی غلط طور پر انکار کیا۔

جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے اتوار کو جاری بیان میں یوکرین کے اقدام پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔ صدارتی دفتر کے سینئر سیکریٹری برائے تعلقات عامہ سونگ گی ہونگ نے کہا کہ یوکرینی حکومت نے رازداری کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر معلومات ظاہر کیں اور بعد ازاں عوامی سطح پر معاہدے کے وجود سے انکار کیا، اس لیے کیف سے باضابطہ وضاحت اور معافی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سونگ گی ہونگ کے مطابق دونوں حکومتوں کے درمیان متعدد ذرائع سے قیدیوں کی منتقلی پر بات چیت ہوئی تھی اور رازداری برقرار رکھنے کی درخواست خود یوکرین نے کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق کیف کو خدشہ تھا کہ منتقلی کو منظرعام پر لانے سے یوکرین میں تنقید ہوسکتی ہے، کیونکہ ان دونوں شمالی کوریائی فوجیوں کو یوکرینی قیدیوں کے بدلے استعمال کیے جانے کا امکان تھا۔

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے 23 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران انکشاف کیا تھا کہ یوکرین نے حال ہی میں ان دونوں افراد کو جنوبی کوریا منتقل کیا ہے۔ زیلنسکی نے کہا تھا کہ انہیں زندہ گرفتار کرنا آسان نہیں تھا۔ شمالی کوریا نے 2024 اور 2025 کے دوران روس کی جانب سے کرسک کے علاقے میں یوکرینی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی اہلکار تعینات کیے تھے۔

زیلنسکی کے انکشاف پر جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ منتقلی جزیرہ نما کوریا کی سلامتی سے متعلق انتہائی حساس معاملہ تھا۔ انہوں نے زیلنسکی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے قومی مفاد پر قلیل مدتی سیاسی مفادات کو ترجیح دی اور رازداری کے انتظام کی خلاف ورزی کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔

لی جے میونگ نے الگ بیان میں کہا کہ جو لوگ سیاسی مفاد کے لیے انسانی جانوں، قومی سلامتی اور قومی مفاد کو خطرے میں ڈالتے ہیں، انہیں ’’قاتل یا غدار‘‘ کہا جاسکتا ہے۔ انہوں نے قیدیوں کی منتقلی کو خفیہ رکھنے کے سیول کے فیصلے کا دفاع بھی کیا۔

بعد ازاں کیف نے رازداری کے کسی معاہدے کی موجودگی سے انکار کردیا۔ زیلنسکی کے مشیر دیمتری لٹون نے کہا کہ خاموش رہنے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ یوکرینی صدارتی دفتر کے ایک ذریعے نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یوکرینی عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ تاہم یوکرین کے سابق فوجی سربراہ اور برطانیہ میں سفیر ویلری زالوزنی کی میڈیا مشیر اوکسانا توروپ نے کہا کہ رازداری کا معاہدہ موجود تھا۔ انہوں نے زیلنسکی کے اعلان کو محض نمائش اور غیر ضروری تشہیر قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی۔