ٹرمپ کی شی جن پنگ کو امریکی ہتھیار خریدنے کی پیشکش کی

Trump and Xi Jinping Trump and Xi Jinping

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے ایک موقع پر دریافت کیا تھا کہ کیا چین امریکا سے ہتھیار خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ چین میں امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو نے یہ انکشاف کیا ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ بات کب ہوئی، کن ہتھیاروں کی پیشکش زیر بحث آئی یا چینی صدر نے اس پر کیا جواب دیا۔ ڈیوڈ پرڈیو نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ امریکا دنیا بھر کے دیگر ممالک کو بھی اسلحہ فروخت کرتا ہے اور اسی تناظر میں انہوں نے صدر شی جن پنگ سے بھی امریکی ہتھیار خریدنے کے بارے میں سوال کیا تھا۔ امریکا اور چین کے درمیان دفاعی سازوسامان کی تجارت پر کئی دہائیوں سے سخت پابندیاں عائد ہیں۔ امریکی کانگریس نے 1990 میں سرزمین چین کو امریکی اسلحہ فہرست میں شامل دفاعی سازوسامان برآمد کرنے پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ محدود استثنیٰ اور بعض حالات میں صدارتی فیصلے کی گنجائش کے باوجود یہ پابندیاں طویل عرصے سے چین پر امریکی اسلحہ پابندی کی بنیاد بنی ہوئی ہیں۔

دوسری جانب امریکا تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے والا اہم غیر ملکی ملک ہے، جبکہ واشنگٹن باضابطہ طور پر اپنی ایک چین پالیسی برقرار رکھتا ہے۔ 1979 کے تائیوان تعلقات قانون کے تحت امریکا تائیوان کو اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے ضروری سمجھے جانے والے دفاعی سازوسامان اور خدمات فراہم کرنے کا پابند ہے۔

چین تائیوان کو اپنی خودمختار سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے اور امریکا سے فوجی تعاون ختم کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ تائیوان کو امریکی اسلحے کی فروخت چین کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور آبنائے تائیوان میں کشیدگی کا باعث بنتی ہے۔ شی جن پنگ کے واشنگٹن دورے سے قبل چینی وزارت دفاع نے بھی امریکا پر اس معاملے میں انتہائی محتاط رویہ اختیار کرنے پر زور دیا تھا۔

گزشتہ دسمبر میں ٹرمپ انتظامیہ نے تائیوان کے لیے 11 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی پیکیج کی منظوری دی تھی، جسے اب تک اعلان کردہ سب سے بڑا پیکیج قرار دیا گیا۔ تقریباً 14 ارب ڈالر مالیت کا ایک اور پیکیج کئی ماہ سے زیر التوا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اسے مذاکرات میں ایک اہم سودے بازی کے ذریعے کے طور پر بیان کیا تھا، تاہم حالیہ سربراہی ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری دستاویزات میں زیر التوا پیکیج کے حوالے سے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

ڈیوڈ پرڈیو نے صدر ٹرمپ کے تائیوان سے متعلق اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ امریکی صدر اپنے پیش روؤں کے مقابلے میں تائیوان کے لیے نمایاں طور پر زیادہ اسلحے کی منظوری دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق شی جن پنگ سے امریکی ہتھیار خریدنے کا سوال بھی صدر ٹرمپ کے سودے بازی پر مبنی طرزِ حکمرانی کا اظہار تھا اور اسے کسی باضابطہ اسلحہ معاہدے کی تجویز نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

چین پہلے ہی روایتی ہتھیاروں کے بیشتر بڑے شعبوں میں بڑی پیداواری صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال بھی موجود ہے کہ امریکا عملی طور پر چین کو کون سا ایسا دفاعی سازوسامان فراہم کرسکتا ہے جو چین خود تیار نہیں کرتا۔ جدید ترین ٹیکنالوجی اور حساس دفاعی معلومات ان شعبوں میں شامل ہیں جہاں امریکا کو اب بھی برتری حاصل ہے، تاہم یہی وہ صلاحیتیں ہیں جنہیں واشنگٹن حساس سمجھتا ہے اور چین جیسے بڑے تزویراتی حریف کو فراہم کرنے کا امکان محدود ہے۔