ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
کیف انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشیالوجی (کے آئی آئی ایس) کے تازہ سروے کے مطابق 72 فیصد یوکرینی شہریوں کا خیال ہے کہ صدر ولودیمیر زیلنسکی اپنے قریبی ساتھیوں کی بدعنوان سرگرمیوں کے لیے ذاتی ذمہ داری رکھتے ہیں۔ کے آئی آئی ایس نے 28 ستمبر کو جاری کردہ رپورٹ میں بتایا کہ 25 فیصد جواب دہندگان نے زیلنسکی کو ان سرگرمیوں کا ذمہ دار نہ قرار دیا، جبکہ 3 فیصد نے کوئی رائے نہیں دی۔ ادارے نے واضح کیا کہ سروے میں ’’ذاتی ذمہ داری‘‘ سے مراد بنیادی طور پر سیاسی ذمہ داری لی گئی ہے، اسے صدر کی جانب سے بدعنوانی میں براہِ راست ملوث ہونے کے الزام کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
یہ سروے 12 سے 21 ستمبر 2026 کے دوران کیا گیا، جس میں یوکرین کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں رہنے والے 18 سال یا اس سے زائد عمر کے 1002 شہریوں سے ٹیلی فون پر رائے لی گئی۔ سروے میں ان علاقوں کے رہائشی شامل نہیں تھے جو یوکرینی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں، جبکہ بیرون ملک مقیم یوکرینی شہری بھی اس میں شامل نہیں تھے۔ سروے کے مطابق 72 فیصد شہریوں نے یہ بھی کہا کہ مکمل جنگ کے دوران یوکرین میں بدعنوانی کی سطح میں اضافہ ہوا، جبکہ صرف 6 فیصد نے اس میں کمی کی نشاندہی کی۔ کے آئی آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق بدعنوانی یوکرینی شہریوں کے لیے اہم تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ادارے نے اپنے سروے میں حکومت میں بدعنوانی اور حکام کی نااہلی سے متعلق عوامی خدشات کا بھی جائزہ لیا۔ حالیہ مہینوں میں یوکرینی حکام اور انسداد بدعنوانی کے اداروں کی جانب سے حکومتی عہدیداروں اور صدر کے قریبی حلقے سے متعلق تحقیقات کے باعث یہ معاملہ ملکی سیاسی بحث کا اہم موضوع بن گیا ہے۔