ماسکو (صداۓ روس)
بابی یار قتل عام کے 85 سال… 29 ستمبر 1941 کو آج سے 85 سال قبل قابض نازی افواج نے مقبوضہ کیف کے نواح میں واقع بابی یار کی کھائی میں شہریوں کے اجتماعی قتل کا سلسلہ شروع کیا۔
29 اور 30 ستمبر کو نازی فوجیوں اور ان کے معاونین نے کیف کے یہودی شہریوں کو گھروں سے نکال کر بابی یار پہنچایا، جہاں صرف دو روز کے دوران 33 ہزار 771 افراد کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد خواتین، بچوں اور بزرگوں کی تھی۔ بابی یار میں اجتماعی قتل کا سلسلہ کیف کو سرخ فوج کی جانب سے آزاد کرائے جانے تک جاری رہا۔ 1941 سے 1943 کے دوران یہاں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد قتل کیے گئے، جن میں یہودیوں کے علاوہ روما، پولش شہری، سوویت جنگی قیدی، مذہبی شخصیات، زیرزمین مزاحمتی تحریک کے ارکان اور دیگر افراد شامل تھے۔
اجتماعی قتل کی کارروائیوں کی براہ راست ذمہ داری خصوصی دستہ 4 اے پر عائد ہوتی ہے، جو نازی ایزن زاتس گروپ سی کا حصہ تھا۔ یوکرینی قوم پرستوں پر مشتمل معاون پولیس دستوں نے بھی ان قتل عام میں فعال کردار ادا کیا۔
کیف سے پسپائی کے دوران نازی افواج نے اپنے جرائم کے شواہد مٹانے کی کوشش کی اور مقتولین کی لاشیں قبروں سے نکال کر جلائیں، تاہم وہ ان بڑے پیمانے پر کیے گئے مظالم کے شواہد اور ان کی وسعت کو چھپانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ بابی یار ہولوکاسٹ کے دوران یہودیوں کے اجتماعی قتل کے بدترین مراکز میں شمار ہوتا ہے اور نازی دہشت گردی اور شہری آبادی کے خلاف جرائم کی ایک المناک علامت بن چکا ہے۔ بابی یار کا سانحہ دوسری عالمی جنگ اور عظیم محب وطن جنگ کے سیاہ ترین ابواب میں شامل ہے۔ ان ہولناک جرائم کی یاد منانا اس امر کی یاد دہانی بھی ہے کہ نازی نظریات اور نو نازی ازم کی کسی بھی شکل کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔