ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
یمن کی حوثی تحریک انصار اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمال مغربی یمن کی گورنری صعدہ کی فضا میں ایک سعودی ٹائیفون لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلی گرام چینل پر اپنے بیان میں کہا کہ ان کی مسلح افواج نے سعودی ٹائیفون طیارے کو نشانہ بنایا جس نے طائف کے اڈے سے پرواز بھری تھی۔ ان کے مطابق طیارے کو صعدہ کی فضائی حدود میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جو طیارے کو جا لگا، اور اس کے گرنے کا خدشہ ہے۔
یہ دعویٰ 14 اکتوبر 2026 کو سامنے آیا۔ بیان کے مطابق طیارہ مغربی سعودی عرب کے شہر طائف سے اڑا تھا، جہاں شاہ فہد ایئر بیس واقع ہے۔ حوثیوں نے یہ تو کہا کہ طیارہ گرنے کے خطرے سے دوچار ہے، لیکن اس کے مار گرائے جانے کی تصدیق نہیں کی۔
حوثیوں کے دعوے کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، سعودی حکام کی جانب سے فوری ردعمل بھی سامنے نہیں آیا، اور یہ واضح نہیں کہ طیارے کو نقصان پہنچا، وہ بحفاظت اڈے پر واپس پہنچ گیا یا گر کر تباہ ہو گیا۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے حکام نے بھی دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
یوروفائٹر ٹائیفون ایک جڑواں انجن والا کثیر المقاصد جنگی طیارہ ہے جو فضائی برتری اور حملہ آور مشنز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے طیارے پر میزائل حملے کی تصدیق ہوئی تو اس کے اثرات ایک طیارے کے نقصان سے کہیں آگے جا سکتے ہیں، کیونکہ اس سے ظاہر ہوگا کہ حوثی متنازع علاقوں میں سعودی طیاروں کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حوثی ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ بھی کر چکے ہیں، اور سعودی فضائی تنصیبات کے خلاف حملوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے سعودی ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر نئے حملوں کی دھمکی بھی دی ہے، جس سے خطے میں وسیع تر تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔