ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانیہ یوکرین کو مزید طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹارم شیڈو میزائل بھیجے گا۔ امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان 14 اکتوبر کو لندن میں ملاقات کے دوران ان میزائلوں کی فراہمی پر بات چیت ہوئی۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ نے اس معاملے پر تبصرے سے انکار کیا اور یہ بھی نہیں بتایا کہ تنازع کے آغاز سے اب تک لندن نے کیف کو کتنے ایسے میزائل فراہم کیے ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ کھیپ اب تک عوامی سطح پر اعلان نہیں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق یہ میزائل اس لیے بھیجے جا رہے ہیں تاکہ یوکرین موسم سرما سے پہلے ان روسی فوجی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈال سکے جو اس کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ روس نے حالیہ ہفتوں میں جیٹ انجن والے ڈرونز اور میزائلوں کی پیداوار بڑھا دی ہے تاکہ یوکرین پر حملے تیز کیے جا سکیں، اس لیے کیف کا ان کارروائیوں کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ برطانیہ کا مؤقف ہے کہ جب تک ماسکو اپنے حملے نہیں روکتا، یوکرین کو بھی روس پر اپنے حملے بند نہیں کرنے چاہییں۔
ایک ذریعے کے مطابق برطانیہ یوکرین کی جانب سے ان روسی اہداف کے خلاف طویل فاصلے کے ہتھیاروں کے استعمال کو، جو شہریوں اور انفراسٹرکچر پر حملوں میں ملوث ہیں، دفاعی اقدام سمجھتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرین سے روسی آئل ریفائنریوں پر ڈرون حملے روکنے کا کہا ہے، تاہم لندن کی پوزیشن اس سے مختلف ہے۔
اسٹارم شیڈو کو میزائل ساز کمپنی ایم بی ڈی اے تیار کرتی ہے۔ یہ فضا سے داغا جانے والا درست نشانے کا کروز میزائل ہے جس کی رینج 250 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ برطانیہ 2023 سے یہ میزائل یوکرین کو دے رہا ہے۔ یوکرین نے پہلی بار نومبر 2024 میں ان برطانوی فرانسیسی میزائلوں کو روس کے اندر فوجی اہداف کے خلاف استعمال کیا۔ لندن نے کبھی یہ تعداد ظاہر نہیں کی کہ اب تک کتنے میزائل بھیجے گئے، اور نہ ہی انفرادی کھیپوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔
برنہم نے 24 اگست کو کیف کے دورے کے دوران اعلان کیا تھا کہ برطانیہ طویل فاصلے کے میزائلوں کے نقشے یوکرین کے ساتھ شیئر کرے گا تاکہ وہ انہیں اپنے ملک میں تیار کر سکے۔ زیلنسکی کے دورے کے دوران 5.97 کروڑ ڈالر مالیت کے نئے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی فراہمی کا بھی اعلان کیا گیا۔
دوسری جانب روس کے لندن میں سابق سفیر آندرے کیلن نے تاس کو انٹرویو میں کہا تھا کہ برطانیہ یوکرین تنازع میں کسی بھی دوسرے نیٹو رکن ملک کے مقابلے میں شاید زیادہ گہرائی تک شامل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق یوکرین میں اسٹارم شیڈو میزائل داغنے میں ملوث خصوصی دستوں، انسٹرکٹروں اور فوجی ماہرین کی موجودگی کی سرکاری طور پر تصدیق ہو چکی ہے۔