ماسکو (صداۓ روس)
روسی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ آرمی جنرل ویلیری گیراسیموف نے صدر ولادیمیر پوتن کو بتایا ہے کہ روسی فوج یوکرینی فوج کے زیر استعمال اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں 76 لاجسٹک مراکز اور گودام، 203 بندرگاہی تنصیبات اور 93 ایسے جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں جو دشمن کو فوجی سامان پہنچا رہے تھے۔
گیراسیموف نے کہا کہ جنرل اسٹاف کے منصوبے کے مطابق اسٹریٹجک اہمیت کے حامل پلوں، ریلوے تنصیبات اور یوکرینی مسلح افواج کو سہارا دینے والے ڈیٹا سینٹروں پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ منظم حملوں کے ذریعے یوکرین کی بحیرہ اسود کی اہم بندرگاہوں کا کام مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔
ان کے بقول بحیرہ اسود کے خطے میں روسی جہاز رانی روکنے کی کیف انتظامیہ کی کوششوں کے جواب میں روسی مسلح افواج یوکرین کی بندرگاہی اور لاجسٹک تنصیبات اور بحری جہازوں پر منظم حملے کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں بحیرہ اسود پر اس کی اہم بندرگاہوں کی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں۔ صدر پوتن نے اس موقع پر زور دیا کہ روسی مسلح افواج خصوصی فوجی آپریشن کے اہداف پر عمل پیرا ہیں۔
یوکرین کی اوڈیسا کے علاقے میں واقع تین بڑی بحیرہ اسود بندرگاہیں کیف کے لیے اہم معاشی شہ رگ سمجھی جاتی ہیں۔ دسمبر 2025 میں پوتن نے کیف کے “شیڈو فلیٹ” پر بحری ڈرون حملوں کے جواب میں یوکرین کو سمندر سے کاٹ دینے کی دھمکی دی تھی، جبکہ ترکیہ نے بحیرہ اسود میں کشیدگی روکنے کے لیے توانائی اور بندرگاہی تنصیبات پر حملے معطل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔