ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ ڈونیٹسک پیپلز ریپبلک کے صرف 10 فیصد کے لگ بھگ علاقے اور زاپوریژیا ریجن کے تقریباً 16.5 فیصد علاقے پر اب بھی کیف انتظامیہ کا کنٹرول ہے۔ مشترکہ فورس کی ذیلی کمانڈ پوسٹ کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ کیف انتظامیہ اب ڈونیٹسک ریپبلک کے 10 فیصد سے کچھ زائد اور زاپوریژیا کے 16.5 فیصد علاقے کو کنٹرول کرتی ہے، جبکہ لوگانسک پیپلز ریپبلک مکمل طور پر روس کے کنٹرول میں ہے۔
پوتن نے یہ بھی کہا کہ ڈونیٹسک ریپبلک پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا روس کے بنیادی اہداف میں شامل ہے۔ ان کے مطابق یوکرینی افواج کے روسی صنعتی اداروں اور توانائی کے شعبے پر حملوں کے جواب میں روسی مسلح افواج یوکرین کے دفاعی صنعتی اداروں اور بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پوتن نے کہا کہ فوج کو پڑوسی علاقے میں سیکیورٹی زون بنانے کا ہدف دیا گیا ہے، جو کرسک کے علاقے میں یوکرینی فوج کی سابقہ دراندازی کے جواب میں ہے، اور یہ کام کامیابی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو یہ معاملہ یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات میں نہیں لائے گا۔ انہوں نے ڈونیٹسک کے علاقے کے قصبے دوبروپیلیا پر قبضے کو بھی کامیابی قرار دیا، جس کی اطلاع جنرل اسٹاف کے سربراہ ویلیری گیراسیموف نے صدر کو دی۔
ویتنامی میڈیا کے مطابق پوتن نے بتایا کہ 2026 کے آغاز سے اب تک روسی افواج تقریباً 6500 مربع کلومیٹر علاقے اور 310 آبادیوں پر کنٹرول حاصل کر چکی ہیں، اور وہ پوری رابطہ لائن پر پیش قدمی کر رہی ہیں۔ ہسپانوی ویب سائٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار روسی صدر کے پیش کردہ ہیں، اور دستیاب مواد میں انہیں یوکرینی فریق کے اعداد و شمار سے ملا کر نہیں پرکھا گیا۔
تاس کے مطابق 7 اکتوبر کو ڈونیٹسک ڈیفنس ہیڈکوارٹر نے یوکرینی کنٹرول والے شہروں کے رہائشیوں سے ریپبلک کی جانب انخلا کی اپیل کی اور انہیں رہائش کی تلاش میں مدد کی یقین دہانی کرائی تھی۔