پیرس میں پرتشدد مظاہرے، اپوزیشن رہنماؤں نے میکرون کو ذمہ دار ٹھہرا دیا

protest in Paris protest in Paris

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

فرانس کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے ملک بھر میں پھیلنے والی پرتشدد بدامنی کی لہر کا ذمہ دار صدر ایمانوئل میکرون اور ان کی حکومت کی پالیسیوں کو قرار دیا ہے۔ طلبہ اور سرکاری شعبے کے ملازمین کی جانب سے مہنگائی اور سرکاری خدمات کی بگڑتی صورتحال کے خلاف ہفتے کو ہونے والے تازہ مظاہرے پیرس اور دیگر شہروں میں ہنگاموں، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار میں تبدیل ہو گئے۔ ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ سینکڑوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

2027 کے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے سروے میں سرفہرست مارین لی پین نے میکرون کو ایسا صدر قرار دیا جس کی نہ کوئی ساکھ ہے نہ اختیار اور جو حقیقت سے مکمل رابطہ کھو چکا ہے۔ انہوں نے حکومت کو آخری سانسیں لیتی ہوئی حکومت کہا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ملک اعتماد اور اختیار کے گہرے بحران سے گزر رہا ہے جو جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک انتباہ ہونا چاہیے، کیونکہ ملک تشدد اور بے بسی کے درمیان جکڑا ہوا، بلکہ یرغمال بنا ہوا ہے۔

جولائی میں پیرس کی اپیل کورٹ نے یورپی یونین کے فنڈز کے غلط استعمال پر لی پین کی سزا برقرار رکھی تھی، تاہم ان کی سزا میں ترمیم کرتے ہوئے وہ پابندی ختم کر دی تھی جس کے باعث دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی سے تعلق رکھنے والی اس تجربہ کار سیاستدان کے صدارتی الیکشن لڑنے پر قدغن تھی۔ لی پین الزامات کی تردید کرتی ہیں اور مقدمے کو سیاسی بنیادوں پر مبنی قرار دیتی ہیں۔

نیشنل ریلی کے صدر جورڈن بارڈیلا نے کہا کہ ملک کئی دہائیوں کی نرمی، اختیار کے زوال اور داخلی سلامتی کی فورسز کی اخلاقی و مادی کمزوری کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایمانوئل میکرون معافی مانگیں اور عہدہ چھوڑ دیں۔

بائیں بازو کی جماعت لا فرانس انسومیز کے رہنما ژاں لوک میلانشون نے فرانسیسی نشریاتی ادارے ایل سی آئی سے گفتگو میں کہا کہ یہ مظاہرے ان دس تباہ کن برسوں کا نتیجہ ہیں جن میں صدر میکرون نے ریاست اور سرکاری خدمات کے نظام کو کمزور کیا۔ انہوں نے وزیر داخلہ لوراں نونیز اور پولیس قیادت پر مظاہروں سے نمٹنے میں مکمل نااہلی کا الزام عائد کیا اور ہنگامہ کنٹرول کرنے والے ہتھیاروں کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وجہ سے لوگ معذور ہوئے۔ لا فرانس انسومیز اس سے قبل حکومت کے اس الزام کو مسترد کر چکی ہے کہ اس نے تشدد کو ہوا دی۔ اتوار کی شام ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں میکرون نے پرامن مظاہرین اور ہنگامہ آرائی کرنے والوں میں فرق کیا اور زور دیا کہ جائز شکایات سنی جانی چاہییں جبکہ تشدد کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی اور سننے اور مکالمے کا مطلب کمزوری یا سزا سے بچ نکلنا نہیں۔

میکرون نے مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے خدشات دور کرنے کا بھی وعدہ کیا، جنہوں نے عملے کی کمی اور تعلیم کے خراب ماحول کی شکایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کی آواز بغیر کسی تعصب اور ان کی مشکلات کو کم کر کے دیکھے بغیر سنی جانی چاہیے۔ اکتوبر کے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق میکرون کی مقبولیت گر کر صرف 15 سے 19 فیصد رہ گئی ہے۔ دوسری جانب اپریل میں ہونے والے صدارتی الیکشن کے پہلے مرحلے کے سروے میں لی پین کو تقریباً 32 سے 36 فیصد حمایت حاصل ہے۔