ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
اطالوی حکومت نے دو روز کے ہنگاموں کے بعد، جن میں دکانیں لوٹی گئیں، پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور سینکڑوں افراد حراست میں لیے گئے، شہر کو مزید لوٹ مار اور تشدد سے بچانے کے لیے میلان میں 500 فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نائب وزیراعظم اور دائیں بازو کی جماعت لیگ کے سربراہ ماتیو سالوینی نے پیر کو اس تعیناتی کا اعلان کیا۔ اس موقع پر اٹلی کے مالیاتی دارالحکومت میں لگژری بوتیکوں نے نئے ہنگاموں کے خوف سے دروازے بند کر دیے اور شوکیسوں سے سامان ہٹا لیا۔ سالوینی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ باتوں سے عمل کی طرف بڑھتے ہوئے میلان کے دفاع کے لیے 500 مزید فوجی بھیجے جا رہے ہیں۔ یہ اعلان وزیراعظم جارجیا میلونی کی صدارت میں ہونے والے ہنگامی سلامتی اجلاس کے بعد سامنے آیا، جن کی حکومت پرتشدد مظاہرین اور نوجوانوں کے گروہوں کے خلاف مزید سخت اقدامات تیار کر رہی ہے۔
بدامنی کا آغاز ہفتے کے اختتام پر مہنگائی اور سرکاری خدمات کی بگڑتی حالت کے خلاف مظاہروں کے دوران ہوا۔ ابتدا میں پرامن ریلیاں جھڑپوں میں بدل گئیں، جب نقاب پوش سینکڑوں نوجوانوں نے پولیس پر حملے کیے، رکاوٹوں کو آگ لگائی اور میلان کے مرکزی پیاتسا ڈیل دوومو کے اطراف دکانیں لوٹ لیں۔ انسداد ہنگامہ پولیس نے بوتلیں اور دیگر چیزیں پھینکنے والے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کیے۔ نشانہ بننے والے کاروباروں میں ڈیکاتھلون، آرکٹیریکس اور ووڈافون شامل ہیں، جبکہ دیگر دکانداروں نے اپنے ٹوٹے ہوئے شوروموں پر تختے لگا دیے۔
پولیس نے صرف اتوار کو 271 افراد کو حراست میں لیا، جن میں سے 32 کو باضابطہ گرفتار کیا گیا، ان میں 23 نابالغ اور 13 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ مزید 28 افراد کو عدالتی حکام کے حوالے کیا گیا۔ اطالوی خبر رساں ایجنسی انسا کے مطابق 14 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
مقامی پراسیکیوٹرز نے اس تشدد کو غیر معمولی طور پر تباہ کن قرار دیا ہے، جس میں ٹوٹی کھڑکیوں، توڑ پھوڑ اور چوری شدہ سامان کی وجہ سے 10 لاکھ یورو سے زائد کا نقصان ہوا، اور اس میں ضائع ہونے والی فروخت شامل نہیں۔ پیر کو شنیل، ہرمیس اور پومیلاتو سمیت لگژری خوردہ فروشوں نے اپنے اسٹور بند رکھے، جبکہ دیگر اعلیٰ درجے کی دکانوں نے نئے حملوں کے خدشے کے پیش نظر شوکیس خالی کر دیے۔
سالوینی نے ہنگامہ آرائی کرنے والوں پر الزام لگایا کہ وہ دانستہ طور پر پولیس کے ساتھ مہلک تصادم کی کوشش کر رہے تھے، اور کہا کہ معاشی مشکلات اس تشدد کا جواز نہیں بن سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سماجی پریشانی نہیں ہے۔ انہوں نے سخت قانون سازی کا مطالبہ کیا، جس کے تحت نابالغوں کو احتیاطی حراست میں رکھا جا سکے اور لوٹ مار کی ویڈیو شہادت کی بنیاد پر گرفتاریاں ممکن ہوں۔
وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے بھی سخت جواب دینے کا وعدہ کیا، جبکہ رپورٹس کے مطابق حکومت پرتشدد نوجوان گروہوں کے خلاف اقدامات کو تیزی سے منظور کرا سکتی ہے۔ میلان کے میئر جوزیپے سالا نے اس تباہی کو ناقابل قبول اور ناقابل جواز قرار دیا اور خبردار کیا کہ کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
اٹلی کی بدامنی یورپ بھر میں پرتشدد مظاہروں کی وسیع لہر کے دوران سامنے آئی ہے، خاص طور پر ہمسایہ ملک فرانس میں، جہاں بڑھتی قیمتوں، سرکاری خدمات کی خرابی اور حکومتی اخراجات میں کٹوتیوں کے خلاف مظاہرے وسیع پیمانے پر ہنگاموں میں بدل چکے ہیں۔ فرانسیسی حکام کے مطابق ہفتے کے اختتام پر تقریباً 2400 گرفتاریاں ہوئیں، سینکڑوں کاروبار لوٹے گئے اور سرکاری عمارتوں کو آگ لگائی گئی۔ وزیراعظم سباستیان لوکورنو نے پیر کو مقامی سطح پر کرفیو کا اعلان کیا، جبکہ صدر ایمانوئل میکرون تشدد پر قابو پانے میں حکومتی ناکامی پر بڑھتی تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔