ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
پاکستان فوج کع ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ حوثیوں کو پیغام دے دیا گیا ہے کہ اگر مسئلہ فوجی تنازع میں بدلا تو مکہ الائنس کا اجتماعی ڈیٹرنس حرکت میں آئے گا۔ انہوں نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کے تحفظ سے پاکستان کی وابستگی کا اعادہ کیا۔
انڈیپنڈنٹ عربیہ کو اتوار کے روز دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اس اجتماعی ڈیٹرنس کے ذریعے خطے میں عدم استحکام اور انتشار کے عناصر کو واضح اور مضبوط پیغام جاتا ہے کہ اگر ان تینوں ممالک میں سے کسی کے خلاف براہ راست یا بالواسطہ جنگ مسلط کی گئی تو جواب اجتماعی ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے نتیجے تک پہنچنا ضروری ہے، تاہم اگر ایسا نہ ہو سکا اور معاملہ فوجی تنازع کی شکل اختیار کر گیا تو مکہ الائنس کا اجتماعی ڈیٹرنس یقیناً حرکت میں آئے گا، جیسا کہ وہ آ بھی رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ اگر ڈیٹرنس ناکام ہوا تو تینوں رکن ممالک کو دستیاب تمام ذرائع سے اسے دوبارہ قائم کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق کوئی بھی اتحاد تفصیلات اور مقداروں کی بات نہیں کرتا۔ انہوں نے پاکستان کے بیانات، فوجی پوزیشن اور عملی تعیناتیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سے یہ پیغام جا چکا ہے کہ اجتماعی ڈیٹرنس مؤثر ہے اور اسلام آباد سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان قائم یہ اتحاد دیرینہ تعلقات، باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہے اور اس کا مقصد علاقائی سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اتحاد خالصتاً دفاعی ہے، کسی خاص ملک کے خلاف نہیں اور اس کے کوئی جارحانہ عزائم نہیں۔ معاہدے کے تحت تینوں میں سے کسی ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اتحاد کی رکنیت صرف ان تین ممالک تک محدود نہیں اور یہ ان تمام ممالک کے لیے کھلی ہے جو اجتماعی ڈیٹرنس، خطے کے امن، استحکام اور سلامتی پر یقین رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی بدلتی صورتحال ممالک کو اجتماعی سلامتی کے لیے ایک دوسرے کے قریب لا رہی ہے، اور مسلم ممالک کے درمیان اتحاد پر زور دیا۔
رپورٹس کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست کو طے پایا تھا، جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 کا حوالہ دیا، جو اجتماعی دفاع کا حق دیتی ہے۔ ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مکہ دفاعی اتحاد کو پہلی بار عملی آزمائش کا سامنا ہے۔