آبنائے ہرمز میں کویتی ٹینکر پھر نشانہ، عملے کے 21 بھارتی ملاح محفوظ

Oil Tanker Oil Tanker

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

آبنائے ہرمز میں کویتی پرچم بردار ٹینکر ایم ٹی الدسمہ بدھ کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل کا نشانہ بنا، جس پر 21 بھارتی ملاح سوار تھے۔ دو ماہ سے کم عرصے میں یہ جہاز پر دوسرا حملہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں۔

بحری سکیورٹی رپورٹس کے مطابق تیل کی مصنوعات لے جانے والا یہ ٹینکر عمان کے علاقے بوکھا سے تقریباً 11 ناٹیکل میل مغرب میں نشانہ بنا، جس سے آگ بھڑک اٹھی جو بعد میں بجھا دی گئی۔ حملے کے بعد جہاز ایک ہی جگہ کھڑا رہا۔

بھارتی وزیر برائے جہاز رانی سربانند سونووال نے بدھ کو بتایا کہ بھارت صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے جہاز کی انتظامی کمپنی سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ تمام 21 بھارتی ارکان اور باقی عملہ مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

عالمی بحری تنظیم (آئی ایم او) کے مطابق اس ٹینکر پر اس سے قبل 7 ستمبر کو آبنائے ہرمز کے جنوب مشرق میں حملہ ہوا تھا۔ دونوں واقعات میں جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم آلودگی کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

بھارتی عملہ مشرقِ وسطیٰ میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے کئی حالیہ حملوں کی زد میں آ چکا ہے۔ 16 اکتوبر کو 15 بھارتی ملاحوں کو لے جانے والا ٹینکر ایم ٹی ایس ٹی 3 آبنائے ہرمز میں پروجیکٹائل کا نشانہ بنا، جس میں تمام عملہ محفوظ رہا۔ اس سے پانچ دن قبل عمان کے قریب ٹینکر ایم ٹی پیٹرو ڈولفن پر حملے کے بعد دو بھارتی ملاح لاپتا ہو گئے تھے۔ اسی روز ایک اور ٹینکر ایم ٹی والتھیرا بھی نشانہ بنا، تاہم اس پر سوار تمام 11 بھارتی ملاح محفوظ رہے۔ اینٹیگوا اینڈ باربوڈا کے پرچم بردار بلک کیریئر کیپ داؤ 14 اکتوبر کو آبنائے کے قریب ڈوب گیا، جبکہ اس سے چند ہفتے قبل ایک حملے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہو چکا تھا۔

آئی ایم او کے مطابق 21 اکتوبر تک آبنائے ہرمز اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ میں 119 تصدیق شدہ بحری واقعات اور 24 ملاحوں کی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ شمالی خلیج فارس میں غیر قانونی تیل کی منتقلی میں مبینہ طور پر ملوث چار جہازوں کو بدھ کو نشانہ بنایا گیا اور ان میں آگ لگ گئی۔ پاسداران انقلاب کے مطابق مزید تین جہاز آبنائے ہرمز کے مغرب میں بارودی سرنگوں سے ٹکرائے، اور اس نے خبردار کیا کہ امریکی فوج کی مسلسل اشتعال انگیزی خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف وسیع تر ردعمل کو جنم دے سکتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایرانی بیان میں الدسمہ کا نام نہیں لیا گیا اور نہ ہی اس پر حملے سے کوئی تعلق ظاہر کیا گیا۔

نئی دہلی اس سے قبل تجارتی جہاز رانی پر بار بار ہونے والے حملوں کی مذمت کر چکا ہے اور بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے فوری کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کر چکا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے 11 اکتوبر کو کہا تھا کہ تجارتی جہازوں، ملاحوں اور شہری انفراسٹرکچر پر حملے بند ہونے چاہئیں، اور بحری آمد و رفت کی آزادی اور سمندری تجارت کے بلا رکاوٹ بہاؤ کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔