ماسکو (صداۓ روس)
بیلاروس میں روس کے سفیر بورس گریزلوف نے کہا ہے کہ ماسکو اور منسک کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں، اور یونین اسٹیٹ کے خلاف کسی بھی فوجی جارحیت کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
نیشنل ڈیفنس میگزین کو انٹرویو میں انہوں نے خبردار کیا: “مغرب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ روس اور بیلاروس کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں، چاہے اس کی نوعیت اور دائرہ کار کچھ بھی ہو۔ یونین اسٹیٹ کے خلاف کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی کا ہماری جانب سے سخت اور فیصلہ کن جواب ہوگا۔”
گریزلوف کے مطابق بیلاروس میں روسی ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار تعینات کیے جا چکے ہیں اور اوریسنک میزائل نظام جنگی ڈیوٹی پر ہیں۔ انہوں نے یونین اسٹیٹ کی سرحدوں کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ان اقدامات کو مناسب قرار دیا۔
ان کے مطابق مغربی رہنماؤں کے یہ بیانات کہ یورپیوں کو 2030 تک جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے، صرف الفاظ تک محدود نہیں، کیونکہ مغربی ممالک ہتھیاروں کی پیداوار اور فوجی بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری پر بھاری رقم خرچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: “یہ بات چاہے کتنی ہی خوفناک ہو، مغرب میں جذباتی لوگ محض اس لیے جنگ پر اتر سکتے ہیں تاکہ ٹینک زنگ آلود نہ ہوں۔”
تاہم روسی سفیر نے کہا کہ روس اور بیلاروس یورپ کے خلاف کوئی جارحانہ منصوبے نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا: “اس کے برعکس، جیسا کہ روسی صدر نے 25 ستمبر کو زور دیا، ہم تعاون اور اپنے یورپی ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے تیار ہیں۔ یہاں گیند ان کے کورٹ میں ہے۔ یہ تعلقات ہم نے منجمد نہیں کیے۔”