ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے منگل کے روز کہا ہے کہ روس اور افریقی ممالک کو معلوماتی شعبے میں تعاون کو کمزور کرنے کی مغربی ممالک کی کوششوں کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا چاہیے۔ روس-افریقہ میڈیا فورم میں افریقی صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے زاخارووا نے خبردار کیا کہ بیرونی طاقتیں روس اور افریقی ممالک کے درمیان براہ راست رابطے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معلومات تک رسائی محدود کرنا اور قوموں کے درمیان آزاد تبادلے کو روکنا عالمی عدم مساوات کو گہرا کرے گا اور ممالک کے درمیان تقسیم کو مضبوط کرے گا۔
انہوں نے کہا ہمیں اس کا اجتماعی طور پر مقابلہ کرنا چاہیے، انفرادی طور پر نہیں بلکہ مل کر کام کر کے۔ زاخارووا نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی تعاون کو محدود کرنے کی کوششیں صرف میڈیا کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ ثقافتی تبادلوں، توانائی، قدرتی وسائل اور دفاع تک پھیلی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا افریقی ممالک پر دباؤ ڈالا گیا، بلیک میل کیا گیا اور بعض اوقات دھمکیاں بھی دی گئیں، جبکہ ساتھ ہی انہیں کچھ ‘انعامات’ بھی پیش کیے گئے۔ ان سے کہا گیا: ‘روس کے ساتھ تعاون ترک کرو، بین الاقوامی تنظیموں میں روس کے خلاف ووٹ دو، اور بدلے میں تمہیں قرضے، خوراک کی فراہمی یا سیاسی حمایت ملے گی۔
زاخارووا نے افریقی ممالک کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے دباؤ کے باوجود ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف روس کی حمایت نہیں بلکہ انصاف، مساوات اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی حمایت ہے، اور امتیاز، ذلت اور بلیک میل کو مسترد کرنا ہے۔ انہوں نے ان صحافیوں کا بھی شکریہ ادا کیا جو فورم میں شرکت کے لیے روس آئے، اور نوٹ کیا کہ کچھ شرکا کو ڈرایا دھمکایا گیا “جبکہ دیگر کو متبادل ایونٹس کا لالچ دے کر روس آنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔”
روس نے مغربی ممالک پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ وہ افریقی رہنماؤں کو 28-29 اکتوبر کو ہونے والے روس-افریقہ سربراہ اجلاس میں شرکت سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ستمبر میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے فرانس کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر ایمانویل میکخواں افریقہ کے دورے کے دوران افریقی رہنماؤں کو سربراہ اجلاس میں شرکت سے روکنے کی کوشش کریں گے.