پاکستان: سردیوں میں بجلی کے بلوں میں 6 ہزار روپے تک اضافے کا خدشہ

Electricity Electricity

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

رواں موسم سرما میں پاکستانی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ بڑھنے کا امکان ہے، کیونکہ دسمبر، جنوری اور فروری کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ دو سے تین گنا بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے صارفین کے ماہانہ بل میں مزید چھ ہزار روپے سے بھی زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاور ڈویژن کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا تخمینہ تقریباً اڑھائی روپے فی یونٹ ہے، جس پر نیپرا کا فیصلہ آنا باقی ہے۔ پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق اس فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو بنیاد بنایا جائے تو دسمبر، جنوری اور فروری میں پن بجلی کی ممکنہ کم پیداوار اور مہنگے ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کے باعث فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ان تین ماہ میں دو سے تین گنا زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔

نجی نیوز کی تحقیق کے مطابق 100 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والے صارف پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ 590 روپے سے 885 روپے تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ 200 یونٹ پر یہ 1,180 روپے سے 1,770 روپے، 300 یونٹ پر 1,770 روپے سے 2,655 روپے تک جا سکتا ہے۔ اسی طرح 400 یونٹ ماہانہ استعمال پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ 2,360 روپے سے 3,540 روپے، 500 یونٹ پر 2,950 روپے سے 4,425 روپے، 600 یونٹ پر 3,540 روپے سے 5,310 روپے اور 700 یونٹ پر 4,130 روپے سے 6,195 روپے ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ اضافی بوجھ بجلی کی قیمت اور ٹیکسوں کے علاوہ ہوگا، جس سے صارفین پر مالی دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔