ایران میں جوہری حملے کے خدشے پر شہریوں کے لیے ہنگامی ہدایات جاری

Nuclear Nuclear

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران میں حکام نے جوہری حملے کی صورت میں اختیار کیے جانے والے ہنگامی اقدامات کی ہدایات جاری کی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے ایسی ہدایات نشر کی ہیں جن میں شہریوں کو بتایا گیا ہے کہ جوہری دھماکے کی صورت میں کیسے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ ان ہدایات میں کہا گیا ہے کہ دھماکے کی شدید روشنی کی طرف نہ دیکھیں، کسی رکاوٹ کے پیچھے پناہ لیں، زمین پر لیٹ جائیں اور سر اور چہرہ ڈھانپ لیں۔ دھماکے کی لہر گزرنے کے بعد فوراً قریبی عمارت میں داخل ہوں، باہر رک کر تماشا دیکھنے یا ویڈیو بنانے سے گریز کریں، گاڑی کے اندر پناہ نہ لیں اور کھڑکیوں اور بیرونی دیواروں سے دور رہیں۔ ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گرم پانی اور صابن سے نہائیں، اور اگر نہانا ممکن نہ ہو تو چہرے، ہاتھوں اور کھلی جلد کو پانی یا گیلی صافی سے صاف کریں۔ شہریوں کو کم از کم 24 گھنٹے تک پناہ گاہ میں رہنے کی تیاری کی ہدایت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس مدت کے بعد بھی خطرہ ٹلنے کا فرض نہ کریں، باضابطہ اعلانات کا انتظار کریں۔

یہ ہدایات ایسے وقت میں جاری کی گئی ہیں جب امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دباؤ میں آ کر ایران کے جوہری مقام پر جوہری حملے پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم ایرانی ٹی وی کی ہدایات میں واضح طور پر یہ نہیں کہا گیا کہ حملہ جوہری ہوگا، تاہم ان کی نوعیت جوہری دھماکوں اور تابکاری کے اخراج سے نمٹنے سے مطابقت رکھتی ہے۔

دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز فاکس نیوز کو ٹیلی فونک انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے ایران پر حملے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے تقریباً دو ماہ میں ایک فضائی دفاعی تنصیب تعمیر کی، امریکہ اس کی تعمیر کا مشاہدہ کر رہا تھا، اور تنصیب مکمل ہونے کے بعد پیر کی رات اسے “بہت اچھی طرح” نشانہ بنایا گیا۔ ٹرمپ نے اسے “چھوٹے پیمانے کا حملہ” قرار دیا اور کہا کہ یہ “جنگ نہیں ہے”۔

وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکہ نے پیر کی رات ایرانی جزیرہ قشم پر حملہ کیا، جو حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن کی جانب سے کیے گئے محدود حملوں کا تازہ ترین حصہ ہے۔ ایرانی میڈیا نے بھی قشم میں متعدد دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔

اس سے قبل امریکی میڈیا میں رپورٹس گردش کر رہی تھیں کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایران پر دوبارہ حملے کے لیے امریکی صدر پر دباؤ ڈالا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نیتن یاہو نے ہفتے کے روز ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد فوری طور پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا، تاہم ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور سفارتی حل کو ترجیح دی ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے منگل کے روز کہا کہ امریکہ کے ساتھ دشمنی کے دوبارہ آغاز سے “کسی کو فائدہ نہیں ہوگا”۔ انہوں نے کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ حکومت نے سپریم لیڈر سے “مذاکرات کے ذریعے” تنازعے کا حل تلاش کرنے کے لیے اختیارات حاصل کیے ہیں۔