ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیٹن یاہو کی نئی فوجی حکمت عملی کے تحت اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے اب تک مشرق وسطیٰ کے تقریباً ایک ہزار مربع کلومیٹر علاقہ قبضے میں لے لیا ہے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی، جنوبی لبنان اور شام کے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ رقبہ 1949 کی اسرائیلی سرحدوں کے اندر اسرائیل کے کل رقبے کا تقریباً 5 فیصد بنتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق قبضے میں لیے گئے علاقے کا تقریباً آدھا حصہ جنوبی لبنان میں ہے جہاں اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے خلاف سیکورٹی زون قائم کیا ہوا ہے۔ باقی علاقہ غزہ کی پٹی اور شام میں ہے۔ اسرائیل اب غزہ کی پٹی کے آدھے سے زیادہ حصے پر کنٹرول رکھتا ہے اور اضافی بفر زونز قائم کر چکا ہے۔ اس وجہ سے تقریباً 20 لاکھ غزہ کے باشندے اب جنگ سے پہلے والے علاقے کے صرف 40 فیصد حصے میں رہ رہے ہیں۔
فنانشل ٹائمز نے لکھا ہے کہ اسرائیل کی یہ نئی حکمت عملی ملک کے انتہا پسند حلقوں کی حمایت سے جاری ہے، لیکن اس سے مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر تباہی اور علاقائی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔