ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
اسرائیل کے وزیرِاعظم نیتن یاہو نے انکشاف کیا ہے کہ وہ پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا رہے، تاہم اس مرض کا علاج خاموشی سے کروایا گیا اور اب وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جمعے کے روز جاری کی گئی اپنی سالانہ طبی رپورٹ میں نیتن یاہو نے بتایا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران وہ اس بیماری کا خفیہ علاج کروا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ طبی معائنے کے بعد وہ خود کو مکمل طور پر صحت مند محسوس کر رہے ہیں اور اس حوالے سے تمام تفصیلات اب عوام کے سامنے رکھ دی گئی ہیں۔
76 سالہ اسرائیلی وزیرِاعظم کے مطابق دسمبر 2024 میں پروسٹیٹ کے بڑھنے کے باعث ان کی سرجری کی گئی تھی، جس کی اطلاع اس وقت وزیراعظم آفس کی جانب سے دی گئی تھی۔ بعد ازاں ہونے والی طبی جانچ میں پروسٹیٹ میں ایک سینٹی میٹر سے بھی کم سائز کا مہلک ٹیومر سامنے آیا، جس کا کامیاب علاج کیا گیا۔
نیتن یاہو نے اپنی صحت سے متعلق بیان میں کہا کہ انہیں پروسٹیٹ سے متعلق ایک معمولی مسئلہ درپیش تھا جس کا مکمل علاج ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سالانہ میڈیکل رپورٹ کی اشاعت میں دو ماہ کی تاخیر اس لیے کی گئی تاکہ اس معاملے کو ایران کے خلاف پروپیگنڈے کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل کی تاریخ کے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے رہنما نے اپنی کینسر کی تشخیص کے حوالے سے عوام کو آگاہ کیا ہے۔