ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی اس ہفتے ہونے والی شادی میں شرکت کا پروگرام اچانک منسوخ کر دیا ہے۔ انہوں نے وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت سے متعلق کچھ اہم معاملات کی وجہ سے وہ اس وقت واشنگٹن میں رہنا ضروری سمجھتے ہیں۔ سی بی ایس نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف نئے فوجی حملوں کی تیاری کر رہی ہے، تاہم حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے جمعہ کی صبح قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ اہم اجلاس کیا۔ سیکریٹری آف وار پیٹ ہیگسٹھ اور سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے انہیں اور نائب صدر جے ڈی وانس کو تہران کے ساتھ بات چیت ناکام ہونے کی صورت میں ممکنہ منظرناموں سے آگاہ کیا۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ نے نئے حملوں کا امکان تو کھلا رکھا ہے، لیکن انہوں نے مشیران کو بتایا کہ سفارتی عمل کو مزید وقت دیا جائے۔
ٹرمپ نے Truth Social پر لکھا کہ “اس اہم دور میں مجھے واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں رہنا ضروری ہے۔” اس سے پہلے جمعرات کو انہوں نے صحافیوں سے کہا تھا کہ شادی کا وقت “مناسب نہیں” کیونکہ “ایران اور دیگر معاملات” درپیش ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے ویک اینڈ شیڈول میں تبدیلی کر دی ہے۔ واشنگٹن تہران کے اس حتمی امریکی تجویز کا جواب منتظر ہے جس کے ذریعے تین ماہ سے جاری جنگ ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھارت روانگی سے قبل کہا کہ ایران کا جواب اسلام آباد کے ذریعے ملنے کی توقع ہے۔ پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر جمعہ کو تہران پہنچے جبکہ قطری وفد بھی ثالثی کی کوششوں میں مدد کے لیے پہنچا ہے۔ اپریل کے آغاز میں نازک سیز فائر کے بعد سے امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے نہیں کیے۔ تاہم حالیہ دنوں میں ٹرمپ مذاکرات کی سست روی سے مایوس ہو رہے ہیں اور حتمی “فیصلہ کن” فوجی کارروائی کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔