ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمن آٹو کمپنی وولکس ویگن نے اپنی ایک فیکٹری کو فروخت کرنے اور اسے فوجی پیداوار کے مرکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر اتفاق کیا ہے، جس میں اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز اس کی پہلی بڑی صنعتی شراکت دار ہوگی۔ وولکس ویگن نے اعلان کیا کہ اس نے لوئر سیکسنی ریاست اور اسرائیلی سرمایہ کاری کمپنی اوریلیس کیپٹل کے ساتھ اپنے اوسنابروک پلانٹ کی فروخت کے لیے معاہدہ کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اوریلیس اکثریتی مالک بنے گا، جبکہ لوئر سیکسنی بھی اس میں حصہ لے گی۔ فیکٹری کو آہستہ آہستہ کار مینوفیکچرنگ سے سیکیورٹی اور دفاعی حل کے مرکز میں تبدیل کیا جائے گا، جہاں پہلا بڑا منصوبہ جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کے لیے فضائی دفاعی نظام اور اجزاء کی تیاری ہوگی۔ رافیل اسرائیلی سرکاری دفاعی کمپنی ہے جو آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام کی تیار کرتی ہے۔ اوسنابروک پلانٹ میں فوجی گاڑیاں، لانچرز اور جنریٹر تیار کیے جائیں گے۔ یہ تبدیلی اس وقت ہو رہی ہے جب وولکس ویگن اپنی تاریخ کی سب سے بڑی تنظیم نو میں سے ایک سے گزر رہی ہے، جہاں کمپنی نے 2030 تک 100,000 ملازمتوں میں کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔