ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ موجودہ صورتحال کے پیش نظر موسم سرما تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے یہ بات امریکی امن مذاکرات کار جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکاف کے ساتھ کیف میں ہونے والی بات چیت کے بعد کہی۔
زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو امید ہے کہ وہ اپنے امریکی شراکت داروں کے ساتھ معاہدوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوگا، تاہم اگر جنگ موسم سرما میں بھی جاری رہتی ہے تو وہ اپنے یورپی شراکت داروں کی حمایت کا بھی منتظر ہے، اور اس وقت صورتحال اسی جانب اشارہ کر رہی ہے۔ اسٹیو وٹکاف نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں فریقوں کو سمجھوتے کرنا ہوں گے۔ امریکی نمائندوں نے کیف میں ہونے والی بات چیت کو مثبت قرار دیا، تاہم روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کسی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا۔ وٹکاف نے کہا کہ فریقین کے پاس اس مقام تک پہنچنے کے لیے درکار عناصر موجود ہیں۔ ان کے مطابق بات چیت انتہائی بامعنی، اہم اور جامع رہی اور امریکی وفد اس عمل کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ جیرڈ کشنر نے بھی کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس دورے سے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے نئے راستے تلاش کرنے میں مدد ملے گی اور وفد نے اس دورے سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
زیلنسکی کے مطابق برطانوی، جرمن اور فرانسیسی نمائندوں کے ساتھ بھی مزید مذاکرات جاری تھے۔ اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ پہلے ایک اجلاس امریکی فریق کے ساتھ ہوگا جس کے بعد یورپی قومی سلامتی کے مشیروں کے ساتھ الگ نشست ہوگی۔ زیلنسکی نے یورپی شراکت داروں کی موجودگی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہاں ہم سب ایک ہی جانب ہیں۔‘‘ اس سے ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی کاروباری ساتھی اسٹیو وٹکاف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر نے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد دونوں امریکی نمائندے دیگر غیر ملکی وفود کی طرح ٹرین کے ذریعے کیف پہنچے، جہاں مرکزی ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ’’امن ایکسپریس‘‘ کے الفاظ درج تھے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین نے اپنے ہوائی اڈوں کو فعال بنانے کے لیے ’’سب کچھ‘‘ تیار کر رکھا تھا، تاہم روسی حملوں کے باعث امریکی وفد نے ٹرین کے ذریعے کیف کا سفر کیا۔ یوکرین نے ۲۰۲۲ء میں روسی فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد سے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں۔ دریں اثنا روسی صدر ولادیمیر پوتن اور زیلنسکی دونوں نے اس امر کا عزم ظاہر کیا ہے کہ امریکی نمائندوں کے مذاکرات کے دوران ماسکو اور کیف پر حملے نہیں کیے جائیں گے۔