ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ڈنمارک میں قائم تنظیم Alliance of Democracies Foundation کی جانب سے جاری سالانہ سروے رپورٹ کے مطابق امریکی صدر Donald Trump کے دور میں امریکا کی عالمی ساکھ میں نمایاں کمی آئی ہے اور اب امریکا کی درجہ بندی چین اور روس سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی تاثر کے اشاریے میں امریکا کی ریٹنگ دو سال قبل مثبت 22 فیصد سے کم ہو کر منفی 16 فیصد رہ گئی، جبکہ چین کی ریٹنگ مثبت 7 فیصد اور روس کی منفی 11 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
یہ سروے 19 مارچ سے 21 اپریل کے دوران پولنگ کمپنی Nira Data نے کیا، جس میں 98 ممالک کے 94 ہزار سے زائد افراد کی رائے شامل کی گئی۔ تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ درجہ بندی کن مخصوص معیارات کی بنیاد پر مرتب کی گئی۔
رپورٹ میں ناروے، سویڈن اور ڈنمارک کو دنیا کے بہترین تاثر رکھنے والے ممالک قرار دیا گیا جبکہ یوکرین نچلے پانچ ممالک میں شامل رہا۔
سابق نیٹو سربراہ Anders Fogh Rasmussen نے سروے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی کمزور عالمی ساکھ افسوسناک ضرور ہے لیکن حیران کن نہیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی، یورپی اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی، تجارتی تنازعات اور گرین لینڈ سے متعلق بیانات نے امریکا کی عالمی شبیہ کو متاثر کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد یورپی ممالک اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات میں مزید اضافہ ہوا، جبکہ تیل کی عالمی قلت نے یورپ کو شدید متاثر کیا۔