ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
لیٹویا کی وزیر اعظم ایویکا سلینا نے یوکرینی ڈرونز کے لٹویا کی فضائی حدود میں داخل ہونے اور تیل ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنانے کے واقعے کے بعد وزیرِ دفاع اینڈریس اسپرڈس کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ لٹوین وزیرِاعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ ڈرون واقعے نے واضح کر دیا کہ دفاعی شعبے کی قیادت ملک کی فضائی سلامتی یقینی بنانے میں ناکام رہی۔ ان کے مطابق وزیرِ دفاع نہ صرف حکومتی اعتماد بلکہ عوامی اعتماد بھی کھو چکے تھے۔
تاہم آندرس سپروڈز نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ پہلے ہی استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ انہوں نے وزیرِاعظم پر الزام عائد کیا کہ سیاسی مقاصد کیلئے ان کی برطرفی کا اعلان جلد بازی میں کیا گیا اور ان کی جماعت “پروگریسیوز” کو پیشگی اعتماد میں لینے سے متعلق غلط بیانی کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں دو ڈرون لٹویا کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے۔ روسی فوج نے ان کی شناخت یوکرین کے “لیوتی” طرز کے فکسڈ ونگ ڈرونز کے طور پر کی۔ ان میں سے ایک ڈرون تاحال لاپتہ ہے جبکہ دوسرے کے گرنے سے روسی سرحد کے قریب واقع شہر ریزیکنے کے نزدیک آگ بھڑک اٹھی۔
یہ واقعہ یوکرین جنگ کے تناظر میں بالٹک ریاستوں میں بڑھتی ہوئی سلامتی تشویشات کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ روس سے متصل متعدد نیٹو ممالک نے حالیہ مہینوں میں یوکرینی ڈرونز کے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے کے واقعات رپورٹ کیے ہیں۔ دوسری جانب یوکرین کے وزیرِ خارجہ Andrey Sibiga نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر لٹویا سے رابطہ کیا اور بالٹک ریاستوں اور فن لینڈ سے معذرت بھی کی، تاہم انہوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار روس کو قرار دینے کی کوشش کی۔