ماسکو (صداۓ روس)
روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق جاری مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مسئلہ سب سے اہم موضوع بن چکا ہے۔ روسی خبر رساں ادارے TASS کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستانی سفیر نے کہا کہ ابتدائی مذاکرات میں آبنائے ہرمز کا معاملہ شامل نہیں تھا، تاہم اب یہی سب سے زیادہ اہم مسئلہ بن گیا ہے۔
انہوں نے کہا “اس وقت سب سے اہم معاملہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا ہے، جو مذاکرات کے آغاز میں زیرِ بحث بھی نہیں تھا۔ سچ یہ ہے کہ یہ مذاکرات انتہائی خفیہ نوعیت کے ہیں اور ہمیں ان کی تفصیلات تک مکمل رسائی نہیں، لیکن اس وقت اصل توجہ آبنائے ہرمز کے کھلنے پر مرکوز ہے۔” فیصل نیاز ترمذی کے مطابق دنیا کے تقریباً 22 فیصد تیل کے علاوہ ایل این جی، کھاد اور کھاد سازی کے خام مال کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے اس آبی گزرگاہ کی بندش عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ پاکستانی سفیر نے خلیجی خطے میں مقیم غیر ملکی افراد کی بڑی تعداد کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک میں تقریباً 3 کروڑ تارکینِ وطن رہتے ہیں، جن میں سب سے زیادہ تعداد بھارتی شہریوں کی ہے جو تقریباً ایک کروڑ بنتی ہے، جبکہ پاکستانی، بنگلہ دیشی، فلپائنی، سری لنکن، نیپالی اور افریقی و لاطینی امریکی ممالک کے باشندے بھی بڑی تعداد میں وہاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک سے مختلف ممالک کو بھاری مقدار میں ترسیلاتِ زر بھی موصول ہوتی ہیں، اسی لیے عالمی برادری کی کوشش ہے کہ اس تنازع کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے۔
فیصل نیاز ترمذی نے امید ظاہر کی کہ سفارتی کوششوں کے ذریعے موجودہ کشیدگی کو پُرامن تصفیے کی جانب لے جایا جا سکے گا۔