ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مکمل فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کو آبنائے ہرمز کی مسلسل ناکہ بندی اور تہران کی جانب سے واشنگٹن کو خاطر خواہ رعایت نہ دیے جانے پر بڑھتی ہوئی بے چینی کا سامنا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس صورتحال کی وجہ ایرانی قیادت کے اندر مبینہ اختلافات کو قرار دے رہے ہیں۔
سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اندر ایران سے متعلق مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ امریکی حکام سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایران پر حملوں کے ذریعے اس کی پوزیشن کمزور کرنے کے حامی ہیں، جبکہ دیگر حلقے سفارتی راستہ جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے قریبی مشیروں میں سے بعض چاہتے ہیں کہ پاکستان، جو امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، تہران تک واشنگٹن کا مؤقف زیادہ واضح انداز میں پہنچائے۔ وائٹ ہاؤس کے بعض اہلکاروں کا خیال ہے کہ پاکستانی ثالث بعض اوقات ایران کے مؤقف کو واشنگٹن کے سامنے اصل صورتحال سے زیادہ مثبت انداز میں پیش کرتے ہیں۔
سی این این نے یہ بھی بتایا کہ صدر ٹرمپ کے اس ہفتے چین کے دورے سے قبل ایران کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے کا امکان کم ہے۔