ماسکو (صداۓ روس)
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے پہلے بین الاقوامی سلامتی فورم کے پلینری سیشن میں ویڈیو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کا خیال ہے کہ علاقائی اور عالمی استحکام جیسے اہم اسٹریٹجک شعبوں میں کام اب ملٹی پولر عالمی نظم کی تشکیل کے تناظر میں خاص طور پر اہم ہو گیا ہے۔ صدر پوتن نے خبردار کیا کہ دہشت گردی اور غیر کنٹرول شدہ جوہری پھیلاؤ ہر قوم کے لیے سنگین خطرات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خطے میں تناؤ میں اضافہ بالآخر پوری دنیا کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ “ہم علاقائی اور عالمی استحکام کو مکمل طور پر یقینی بنانے کے لیے قریبی تعاون کے حامی ہیں اور برابر اور ناقابل تقسیم سلامتی کے اصول کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔”
روس کے صدر نے یہ بھی کہا کہ “جدید دنیا باہم وابستہ اور جڑی ہوئی ہے، اس لیے کسی بھی خطے میں تناؤ میں اضافہ پوری عالمی برادری پر منفی اثر ڈالتا ہے۔” انہوں نے غیر کنٹرول شدہ جوہری پھیلاؤ، انتہا پسندی، منشیات کی اسمگلنگ اور سائبر جرائم کو تمام ممالک کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ اس کے علاوہ پوتن نے کہا کہ بین الاقوامی سلامتی فورم میں پیش کیے گئے خیالات ممالک کے درمیان شراکت داری کی ترقی میں معاون ثابت ہوں گے۔