ماسکو (اشتیاق ہمدانی)
بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے داخلہ اور پبلک سکیورٹی کے خصوصی اجلاس کے موقع پر پاکستان اور روس کے درمیان غیر قانونی امیگریشن اور انسدادِ منشیات کے شعبوں میں اہم تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ معاہدوں پر پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف نے دستخط کیے۔
معاہدوں کا بنیادی مقصد غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام، غیر قانونی طور پر مقیم شہریوں کی شناخت اور وطن واپسی کے طریقہ کار کو مؤثر بنانا، جبکہ منشیات کی اسمگلنگ اور سرحد پار جرائم کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کو مضبوط کرنا ہے۔ دونوں ممالک قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور عملی تعاون میں بھی اضافہ کریں گے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطہ غیر قانونی نقل مکانی، منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی سمیت متعدد سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ اجلاس کے دوران پاکستان نے وسطی ایشیائی ممالک کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں علاقائی سلامتی اور انسدادِ جرائم کے موضوعات زیر بحث آئے۔ صدائے روس کے مطابق اس معاہدے سے روس میں قانونی طور پر مقیم یا سفر کرنے والے پاکستانی طلبہ، تاجروں اور ورک پرمٹ ہولڈرز کے لیے ایک زیادہ منظم اور شفاف نظام تشکیل پانے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ انسانی اسمگلنگ، جعلی دستاویزات اور غیر قانونی ویزا نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں میں بھی تیزی آ سکتی ہے۔
روس کے لیے یہ معاہدہ داخلی سلامتی، بارڈر کنٹرول اور غیر قانونی تارکین وطن کی نگرانی کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ روسی حکام کو پاکستانی شہریوں کی شناخت، دستاویزات کی تصدیق اور وطن واپسی کے معاملات میں براہِ راست سرکاری تعاون حاصل ہو سکے گا، جبکہ انسدادِ منشیات کے شعبے میں بھی معلومات کے تبادلے کو فروغ ملے گا۔
اب تک دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق یہ کوئی ویزا فری یا ویزا سہولت کا معاہدہ نہیں بلکہ سکیورٹی اور امیگریشن تعاون کا فریم ورک ہے۔ اس لیے فوری طور پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ روس نے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی کر دی ہے۔ البتہ اس معاہدے کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی، وزارتِ داخلہ کی سطح پر براہِ راست رابطہ کاری اور منشیات و انسانی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات جیسے نئے عملی میکانزم متعارف کرائے جا رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنائیں گے۔ معاہدوں پر 6 جون 2026 کو دستخط کیے گئے ہیں، تاہم ان کے مکمل نفاذ کی حتمی تاریخ اور انتظامی طریقہ کار سے متعلق تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔ عام طور پر ایسے معاہدے دستخط کے بعد متعلقہ اداروں کی منظوری اور انتظامی اقدامات کے ذریعے مرحلہ وار نافذ کیے جاتے ہیں۔ اس معاہدے کا براہِ راست اثر روسی ویزا پالیسی پر نہیں پڑے گا اور نہ ہی اس سے فوری طور پر پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا پابندیوں میں کوئی تبدیلی آئے گی۔ تاہم اگر دونوں ممالک غیر قانونی امیگریشن اور دستاویزی تصدیق کے معاملات میں مؤثر تعاون جاری رکھتے ہیں تو مستقبل میں قانونی سفر، تعلیم اور کاروباری مقاصد کے لیے ویزا عمل نسبتاً آسان اور قابلِ اعتماد بننے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
صدائے روس کے تجزیے کے مطابق یہ معاہدہ بظاہر سکیورٹی اور امیگریشن تعاون تک محدود نظر آتا ہے، لیکن اس کے سیاسی اور سفارتی اثرات اس سے کہیں زیادہ اہم ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں روس نے غیر قانونی امیگریشن کے حوالے سے اپنی پالیسی سخت کی ہے، جس کے نتیجے میں کئی ممالک کے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے ساتھ اس نوعیت کا معاہدہ روسی اداروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں روس میں تعلیم، روزگار اور کاروبار کے قانونی مواقع حاصل کرنے والے پاکستانی شہریوں کے لیے زیادہ منظم اور قابلِ اعتماد ماحول پیدا ہو۔ دوسری جانب روس کو غیر قانونی امیگریشن، منشیات کی اسمگلنگ اور سرحد پار جرائم کے خلاف اپنے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔
مختصر طور پر یہ معاہدہ فوری طور پر ویزا قوانین یا سفری پابندیوں میں تبدیلی نہیں لاتا، تاہم یہ پاکستان اور روس کے درمیان اعتماد سازی، امیگریشن تعاون اور مستقبل میں ممکنہ ویزا سہولتوں کے لیے ایک مثبت بنیاد ضرور فراہم کرتا ہے۔