شمالی کوریا کا امریکا کے جنوبی کوریا کو میزائل فروخت پر شدید ردعمل

F-18 F-18

پیانگ یانگ (صدائے روس)

شمالی کوریا نے امریکا کی جانب سے جنوبی کوریا کو جدید فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائلوں کی فروخت کی منظوری پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ’’جنگی ہتھیاروں کی برآمد‘‘ قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی مزید بڑھ جائے گی۔ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بیان میں کہا کہ امریکا اور جنوبی کوریا خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور عدم استحکام کے باوجود فوجی تعاون اور عسکری اتحاد کو مسلسل مضبوط بنا رہے ہیں، جس کا مقصد جزیرہ نما کوریا اور اس کے اطراف میں کشیدگی کو انتہائی سطح تک پہنچانا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی اسلحے کی برآمد دراصل جنگ کی برآمد ہے اور امریکی ہتھیار خریدنے کا مطلب خطے میں تصادم اور تناؤ کو مزید بڑھانا ہے۔ شمالی کوریا نے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن اور سیول خطے کے امن و استحکام کی قیمت پر اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔

یہ ردعمل امریکا کی جانب سے تقریباً 30 کروڑ ڈالر مالیت کے ایک دفاعی پیکج کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں 70 جدید اے آئی ایم-120 سی-8 درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے فضائی میزائل اور متعلقہ عسکری سازوسامان شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ معاہدہ امریکی خارجہ پالیسی اور سیکیورٹی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

شمالی کوریا نے دعویٰ کیا کہ حالیہ ہفتوں کے دوران امریکا نے جنوبی کوریا کو بحری ہیلی کاپٹروں، حملہ آور ہیلی کاپٹروں اور گائیڈڈ بموں سمیت اربوں ڈالر مالیت کے متعدد اسلحہ پیکجوں کی منظوری دی ہے۔ پیانگ یانگ کے مطابق 2025 کے دفاعی معاہدے کے تحت جنوبی کوریا نے 2030 تک 25 ارب ڈالر مالیت کا امریکی فوجی سازوسامان خریدنے کا عہد بھی کر رکھا ہے۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات جنوبی کوریا کو خطے میں محاذ آرائی کا ایک اہم مرکز بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں، جبکہ امریکا کی جانب سے جاپان اور تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی بھی ایشیا بحرالکاہل میں کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے فوجی طاقت میں اضافے کی پالیسی کے پیش نظر شمالی کوریا اپنی دفاعی اور جوہری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھے گا تاکہ کسی بھی نئے خطرے کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔

واضح رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کوریا دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا، جبکہ 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ امن معاہدے کے بجائے جنگ بندی پر ختم ہوئی تھی، جس کے باعث دونوں کوریا آج بھی تکنیکی طور پر حالت جنگ میں ہیں۔