بیلسٹک میزائل کا معاملہ مذاکراتی ایجنڈے کا کبھی حصہ نہیں رہا، شہباز شریف

Shahbaz Sharif Shahbaz Sharif

اسلام آباد (صداۓ روس)

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات میں بیلسٹک میزائلوں کا معاملہ کبھی بھی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران اپنے دفاع کے لیے بیلسٹک میزائل رکھتا ہے تو دنیا کے متعدد دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کی دفاعی صلاحیت رکھتے ہیں، لہٰذا صرف ایران کے میزائل پروگرام پر سوال اٹھانا مناسب نہیں۔

اسلام آباد میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے اور پاکستان نے اس پر بطور ثالث دستخط کیے ہیں۔ ان کے مطابق اس پیش رفت کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی جو پورے خطے کے لیے خوش آئند لمحہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ابتدا ہی سے خطے میں امن کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں کیں اور آئندہ بھی پائیدار امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے ایران میں حالیہ تنازعے کے دوران جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی عوام کے حوصلے اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ قطر، سعودی عرب اور ترکیے سمیت دوست ممالک نے امن عمل کی کامیابی کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے خاص طور پر قطر کے امیر اور حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی حمایت کے بغیر یہ پیش رفت ممکن نہ تھی۔

وزیراعظم نے اس موقع پر پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، مذہبی اور برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ایک اہم علاقائی ملک ہے اور مستقبل میں ایک بڑی معاشی قوت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے علی خامنہ ای کی قیادت کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان ایرانی قیادت کے اعتماد اور تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ایران امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف ’’آہنی دیوار‘‘ کی طرح کھڑے رہیں گے۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ بعض عناصر خطے میں امن اور استحکام کے مخالف ہیں، تاہم دونوں ممالک کی قیادت امن دشمن قوتوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ’’پاک ایران دوستی زندہ باد‘‘ کا نعرہ بھی بلند کیا۔