ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانوی میڈیا انڈیپنڈنٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں دوبارہ واپسی کے بعد بین الاقوامی امور میں بے قانونیت کا دور شروع ہو گیا ہے، اور روس اور ایران اس انتشار میں مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کی نادانی اور اسرائیل کی مسیحائی حکومت کی غلط ہدایات کی وجہ سے وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایران کے شہری امریکی پرچم تلے اپنے جابروں کے خلاف نہیں اٹھیں گے اور ماسکو کبھی امریکا کا دوست نہیں بنے گا۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور کریملن امریکا کو ایک اور لامتناہی جنگ میں پھنسا رہے ہیں۔ ان کا طویل مدتی مقصد امریکی طاقت کی حدود کو ظاہر کرنا اور مشرق وسطیٰ میں اس کے اثر و رسوخ کو کمزور کرنا ہے، جہاں واشنگٹن اور اسرائیل کا قریبی اتحاد ایک ذمہ داری ہے۔
یاد رہے امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی، جس کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دیا، جس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور عالمی سطح پر خوراک کی قلت پیدا ہو گئی۔ اگست کے آخر میں امریکی میزائل حملوں کے بعد ایران نے اردن، بحرین، کویت اور عراق میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ برطانوی میڈیا نے کہا کہ ایسی اطلاعات ہیں کے روس ایران کی جاسوسی اور میزائل ٹیکنالوجی فراہم کر کے ایران کی مدد کر رہا ہے.