ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
پاکستان میں حکومت کی جانب سے معاشی استحکام اور مالیاتی صورتحال میں بہتری کے دعووں کے باوجود عام شہریوں کو روزمرہ زندگی میں اس بہتری کے نمایاں اثرات محسوس نہیں ہورہے۔ مالیاتی خسارے میں کمی، شرح سود میں کمی اور عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے معیشت میں استحکام کے اشاروں کے باوجود پشاور کے فوارہ چوک سے کراچی کی مصروف تجارتی منڈیوں تک عام شہری بڑھتے ہوئے اخراجات اور محدود آمدنی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
گزشتہ کئی برسوں کے دوران مہنگائی اور معاشی اصلاحات کے نتیجے میں کم آمدنی اور نچلے متوسط طبقے کی قوت خرید میں نمایاں کمی آئی ہے۔ متعدد خاندان جو ماضی میں باقاعدگی سے مستحق افراد کی مدد کیا کرتے تھے، اب بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے فلاحی اداروں سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔ سماجی کارکنوں اور طبی ماہرین کے مطابق مالی مشکلات نے شہریوں میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور مایوسی میں بھی اضافہ کیا ہے۔
بجلی کے بھاری بل عوامی مشکلات کی ایک بڑی وجہ بن گئے ہیں۔ معاشی اصلاحات کے تحت بجلی پر دی جانے والی سبسڈی میں کمی اور بجلی کے نرخوں میں اضافے نے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ بعض خاندانوں کے لیے بجلی کا ماہانہ بل ان کی مجموعی آمدنی کے بڑے حصے کے برابر پہنچ جاتا ہے، جس کے باعث گھریلو بجٹ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حکومت کی جانب سے بجلی کے استعمال میں کمی اور متبادل توانائی کے ذرائع اختیار کرنے کی تجاویز بھی عام شہریوں کے لیے آسان حل ثابت نہیں ہورہیں، کیونکہ مہنگے متبادل نظام نصب کرنا کم آمدنی والے خاندانوں کی استطاعت سے باہر ہے۔
دوسری جانب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سمیت سماجی تحفظ کے منصوبوں کے لیے مختص رقوم میں اضافہ کیا گیا ہے، تاہم بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث ان اقدامات کے اثرات محدود محسوس ہوتے ہیں۔ آٹا، گھی اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے گھریلو بجٹ کا بڑا حصہ استعمال کررہی ہیں۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں میں محصولات میں اضافے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر بھی خاص توجہ دی جارہی ہے، تاہم عام شہریوں کے لیے یہ سوال بدستور موجود ہے کہ معاشی استحکام کے یہ اقدامات روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں کمی اور آمدنی میں اضافے کی صورت میں کب ظاہر ہوں گے۔ معاشی ماہرین اور سماجی حلقوں کے مطابق توانائی کی قابل برداشت قیمتوں، اشیائے خورونوش کے مناسب نرخوں اور روزگار کے پائیدار مواقع کے لیے مؤثر اقدامات کے بغیر معاشی اشاریوں میں بہتری کے ثمرات عام آبادی تک منتقل کرنا مشکل رہے گا۔ سرکاری اعداد و شمار میں بہتری اور عوام کی عملی معاشی صورتحال کے درمیان موجود فرق پاکستان کی معاشی پالیسی کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔