ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارتی سائنسدانوں نے چاند کے جنوبی قطب پر زیرِ سطح برف کی موجودگی کے نئے شواہد دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جسے مستقبل کے قمری مشنز اور انسانی لینڈنگز کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق Indian Space Research Organisation (اسرو) اور Physical Research Laboratory کے سائنسدانوں نے چندریان-2 مشن سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کیا ہے۔ تحقیق کے دوران چاند کے جنوبی قطبی خطے میں واقع چار ایسے گڑھوں میں ریڈار سگنلز دریافت ہوئے ہیں جو زیرِ سطح برف کی موجودگی سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ گڑھے “دوہری طور پر سایہ دار” علاقوں میں واقع ہیں، جہاں سورج کی روشنی براہِ راست نہیں پہنچتی۔ اسی وجہ سے یہ خطے انتہائی سرد رہتے ہیں اور برف کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان مقامات پر درجہ حرارت تقریباً 25 کیلون، یعنی منفی 248 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔
یہ ڈیٹا چندریان-2 کے مدار گرد سیارچے پر نصب ایک خصوصی امیجنگ آلے سے حاصل کیا گیا، جو چاند کی سطح کا تفصیلی مطالعہ کرتا ہے۔ جدید ریڈار پولاری میٹرک تجزیے کی مدد سے حاصل ہونے والے نتائج 6 مئی کو سائنسی جریدے npj Space Exploration میں شائع کیے گئے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر زیرِ سطح برف کی موجودگی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ مستقبل کے قمری مشنز کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔ خلائی ادارے ایسے علاقوں کی نشاندہی کر سکیں گے جہاں انسانی مشنز کے لیے پانی کے ذخائر دستیاب ہونے کا امکان زیادہ ہو۔ ماہرین کے مطابق چاند پر موجود پانی کی برف کو پینے کے پانی، قابلِ تنفس آکسیجن اور راکٹ ایندھن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے اسے قمری تحقیق کے لیے انتہائی قیمتی وسیلہ تصور کیا جاتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس دریافت کے بعد چاند کے جنوبی قطب کی جانب مزید سائنسی اور خلائی مشنز بھیجے جانے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ اسرو کو مستقبل کے قمری منصوبوں کے لیے نئی نسل کے لانچ وہیکلز (این جی ایل وی) تیار کرنے کی منظوری بھی مل چکی ہے، جو آئندہ چاند سے متعلق مشنز میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔