امریکہ اور اسرائیل کی اگلے ہفتے ایران پر دوبارہ حملے کی تیاری، نیویارک ٹائمز

F-35 F-35

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف دشمنی دوبارہ شروع کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور ممکنہ طور پر اگلے ہفتے حملے دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔ دی نیویارک ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اپریل میں قائم ہونے والی نازک جنگ بندی کے باوجود ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات مکمل طور پر تعطل کا شکار ہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے کی پیشکشوں کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں خلل جاری ہے جس سے عالمی شپنگ اور تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو منظم کرنے کا اپنا طریقہ کار اعلام کیا ہے، تاہم امریکہ نے اسے مسترد کر دیا ہے اور ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے دو اعلیٰ ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے نئے حملوں کی تیاریاں گزشتہ چند دنوں میں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔ ممکنہ آپشنز میں ایرانی فوجی اہداف اور بنیادی ڈھانچے پر شدید بمباری اور تہران کے زیر زمین ذخیرہ شدہ یورینیم کو ضبط کرنے والا آپریشن شامل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش کو “کوڑے کا ڈھیر” قرار دیتے ہوئے موجودہ جنگ بندی کو “ناقابل یقین حد تک کمزور” کہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ “ہمارے پاس امریکیوں پر اعتماد نہ کرنے کی ہر وجہ موجود ہے۔ کوئی فوجی حل نہیں ہے، امریکہ کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے۔”