ماسکو (صداۓ روس)
ماسکو ریجن میں جاری بین الاقوامی سلامتی فورم میں سائبریاچوک-5 بغیر پائلٹ والا طیارہ (UAV) پیش کیا گیا۔ یہ ڈرون ظاہری شکل میں بڑے DJI ماویک سے ملتتا جلتا ہے، جو جنگی علاقوں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ڈرون ہے۔ تاہم اس مقامی ساخت کے UAV کی اہم خصوصیت اضافی بیٹری یا ٹارگٹ حاصل کرنے کے لیے لیزر رینج فائنڈر لے جانے کی صلاحیت ہے۔ دفاع سے متعلقہ ایجنسی کے ماہرین نے بتایا کہ “اس میں DJI سے زیادہ فعالیت ہے، یعنی یہ موجودہ صورتحال کے مطابق زیادہ بہتر ہے۔”
ڈرون کی تیاری کرنے والی کمپنی گاسکار کا کہنا ہے کہ اس کے استعمال ہونے والے اجزاء کا 85-90 فیصد مقامی طور پر تیار کیا جاتا ہے۔ ایک ڈرون کو اسمبل کرنے میں صرف دو منٹ سے زیادہ وقت نہیں لگتا۔ جنگی استعمال کے علاوہ سائبریاچوک-5 انفراسٹرکچر، تعمیراتی مقامات، کان کنی، پائپ لائنز کی نگرانی، لوگوں کی تلاش اور جرائم کی ریکارڈنگ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے 160x آپٹیکل زوم، نائٹ ویژن آپٹکس اور گاڑیوں اور اہلکاروں کی خودکار شناخت کے لیے AI سسٹم نصب ہے۔
کمپنی نے بتایا کہ اس ماڈل کی سب سے بڑی برتری الیکٹرانک وارفیئر ماحول میں اس کی اعلیٰ بقا کی صلاحیت ہے۔ سائبریاچوک-5 فی الوقت یوکرین میں خاص فوجی آپریشن زون اور روسی وزارت داخلہ کی جانب سے ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔